Posts

good urdu books

 . Urdu literature has a history that is inextricably tied to the development of the Urdu language.Its Based on literary, cultural, and historical importance, this list tries to present some of the most remarkable works in Urdu. It is not limited to literature and includes books on history, culture, philosophy and religion. Readers may, of course, disagree and make their own lists. The list is not in order of preference. 1. *Kulliyat-i-Sauda* : collected works of Mirza Rafi Sauda, one of the classical Urdu poets. 2. *Kulliyat-i-Meer* : collected works of Mir Taqi Mir, one of the greatest of Urdu poets. 3. *Bagh-o-bahar* : a dastan, written by Mir Amman, is an example of simple yet idiomatic classical prose. 4. *Fasana-i-ajaib* : a dastan, penned by Rajab Ali Baig Suroor, is among the samples of the most ornate classical Urdu prose. 5. *Gulzar-i-Naseem* : one of the best Urdu masnavis, composed by Daya Shankar Naseem. 6. *Kulliyat-i-Insha Allah Khan Insha* : collected poetical works...

pqnk agriculture

Image
 pqnk

بیگم کی سوچ

 بیگم کے ساتھ فلم یا سیریز دیکھنا ایک الگ نوعیت کا سیاپا ہوتا ہے۔ ‏یوں لگتا ہے جیسے وہ فلم یا سیریز آپ پر ہی بنی ہوئی ہے۔ کچھ دن پہلے ایسی ہی ایک فلم ہم دونوں دیکھ رہے تھے۔ اس کا مرکزی کردار اپنی بیوی کو بھی تحائف دے کر خوش رکھتا ہے اور باہر بھی اس کے کافی چکر چل رہے ہوتے ہیں۔ یکدم بیگم کی آواز آئی”بغیرت انسان، بیوی کو بھی خوش رکھا ہوا اور باہر بھی چکر چلانے سے باز نہیں آیا"۔ ‏ میں نے اس کی جانب دیکھا تو وہ میری جانب ہی دیکھ رہی تھی۔ میں نے اگنور کر دیا کہ شاید ہیرو پر اپنی رائے دے رہی ہے۔ ‏کچھ دیر گزری تو پھر ایسے ہی کسی سین پر بولی”چیپسٹر، بیویوں کے ساتھ بھی لولو پوپو کرتے ہیں اور موبائل پر گرل فرینڈ کے ساتھ بھی لگے رہتے ہیں"۔ ‏میں نے پھر گردن گھما کے اُسے دیکھا۔ وہ اب کے ٹی وی سکرین کی جانب دیکھ رہی تھی۔ ‏پھر کچھ دن بعد ایسے ہی ایک بھارتی ٹی وی سیریز دیکھی۔ جس کی مرکزی کردار ایک عورت تھی جو شوہر کی ڈانٹ ڈپٹ کا شکار رہ کر ذہنی مریضہ بن چکی تھی۔ اچانک بیگم کی آواز آئی "خدمتیں جتنی مرضی کر لو ان کی، یہ مینٹل ٹارچر کرنے سے باز نہیں آتے، سستے انسان"۔ ‏ میں نے اسے دیکھ...

سولہ سنگھار

 *سولہ سنگھار* *سولہ سنگھار (ہندی:सोलह सिंगार)* برصغیر پاک و ہند میں خواتین کے بناؤ اور زیب و زینت کے لئے استعمال ہونے والے سولہ کلاسیکی طریقے ہیں جو جدید کاسمیٹکس صنعت کے آنے سے پہلے کم و بیش ہر طبقے کی خواتین اپنی آئندہ نسلوں کی لڑکیوں کو تعلیم دیتی تھیں۔ سولہ سنگھار کے طریقوں کے آغاز اور ترویج کے زمانے کا درست اندازہ نہیں ہے تاہم اس میں بتائی گئی مختلف تکنیکیں مختلف ادوار مثلا آریائی دور اور اس سے قبل گندھارا عہد حتیٰ کہ قدیم دراوڑی دور کے مجسموں، تصاویر، ادب اور داستانوں اور آثار میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا آغاز برصغیر میں تہذیب کے باقاعدہ آغاز کے ساتھ ہی ہوا اور رفتہ رفتہ یہ ایک منظم نصابی شکل اختیار کر گیا۔ برصغیر میں عام طور پر ہندو خواتین، مختلف تہواروں میں یہ سنگھار اپناتی ہیں، لیکن سماجی اختلاط کی وجہ سے برصغیر کی دوسری اقوام یعنی مسلمان اور سکھ گھرانوں کی خواتین بھی یہ طریقے اپناتی رہی ہیں۔ تخت دہلی کے علاوہ ریاست اودھ کے مسلم نوابوں کی حویلیوں میں مسلمان بیگمات خاص طور پر اس کا اہتمام کرتی تھیں اور آج بھی روایت پسند گھرانوں میں اس کا اہتمام کی...

Dr Ashraf Iqbal geogebra letter

 Professor Ashraf Iqbal, PhD A free lance Professor  Conducting Free workshops on the Use of GeoGebra in the last eight to ten years [188 Eden Avenue, Lahore], Pakistan [July 23, 2024] To: His Excellency, The President of Pakistan [President’s Office Address] Islamabad, Pakistan Subject: Introduction of GeoGebra for Enhancing Mathematics Education in Pakistan Respected Mr. President, Mathematics has always been the cornerstone of technological advancement, shaping both peacetime innovations and wartime strategies. The Industrial Revolution, which redefined global economies and societies, was driven by mathematical progress. The primitive use of wireless technology by the East India Company enabled them, despite being outnumbered, to suppress the local rebellion in the subcontinent through superior surveillance and communication. Similarly, Israel’s decisive victory in the 1967 war against the combined Arab armies, despite a 10 to 1 disadvantage, was a testament to their advanc...

قربانی اجمل حمید

 ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺪﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ #عیدالاضحی ﭘﺮ 4 ﮐﮭﺮﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﻩ ﮐﺎ ﻣﻮﯾﺸﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻫﻮتا ہے, ﺗﻘﺮﯾﺒﺄ 23 ﺍﺭﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﻗصائی ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﻤﺎتے ہیں۔ 3 ﺍﺭﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﻩ ﭼﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ والے ﮐﻤﺎتے ہیں۔ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻋﯿﺪ ﭘﺮ ﻫﻮتا ہے۔ #ﻧﺘﯿجہ : ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ملتی ہے ﮐﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﭼﺎﺭﻩ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﻫﻮتا ہے. ﺩیہاﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﯾﺸﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻗﯿﻤﺖ ملتی ہے۔ اربوں روپے ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻻﻧﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍلے کماتے ہیں۔ ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ لیے مہنگا ﮔﻮﺷﺖ ﻣﻔﺖ ﻣﯿﮟ ملتا ہے , ﮐﮭﺎﻟﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺳﻮ ﺍﺭﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﻫﻮتی ﻫﯿﮟ , ﭼﻤﮍﮮ ﮐﯽ ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﺎﻡ ملتا ہے, یہ ﺳﺐ ﭘﯿسہ ﺟﺲ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﻫﮯ ﻭﻩ ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺧﺮﭺ ﮐﺮتے ہیں ﺗﻮ نا ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﮐﮭﺮﺏ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﻩ ﻫﻮتا ہے ... یہ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﮔﻮﺷﺖ نہیں ﮐﮭﻼﺗﯽ , ﺑﻠکہ ﺁﺋﻨﺪﻩ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﻫﻮﺗﺎ ﻫﮯ , ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮐﻮٸی ﻣﻠﮏ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﺍﻣﯿﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﭨﯿﮑﺲ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭘﯿسہ ﻏریبوﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﭩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﻓﺎﺋﺪﻩ نہیں ہوتا ﺟﺘﻨﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﻓﺎﺋﺪﻩ ﻫﻮﺗﺎ ﻫﮯ , ﺍﮐ...

پتھر چٹ زخم حیات

  Home  تازہ ترین تازہ ترینطب و صحتجڑی بوٹیاں زخم حیات By nukta 313 -26/05/20210789 Facebook Twitter Pinterest WhatsApp Linkedin Email Print Tumblr Telegram Copy URL زخم حیات اسے  اردو، اور ہندی میں  زخم حیات اور پتھر چٹ کہتے ہیں۔ انگلش میں (Bryophyllum calycinum) کہتے ہیں ۔فارسی زخم حیات۔ بنگالی ہیم ساگر۔ مرہٹی برنا بیج گھٹی ماری۔ سنسکرت ہیم ساگر۔ لاطینی کیلنشو لیسینیاٹا (Kalanchoe Lacinia)۔ فہرست یہاں دیکھیں Bryophyllum زخم حیات پتھر چٹ 6 1 ہندوستان اور پڑوسی ممالک میں یہ باغوں میں لگائی جاتی ہے اور پہاڑوں پر بھی پیدا ہوتی ہے۔ یہ بوٹی اکثر کھیتوں اور پانی کے کناروں پر اکثر پیدا ہوتی ہے۔ اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک قسم کے پتے چھوٹے چھوٹے باریک ہوتے ہیں اور بیل زمین پر بچھی رہتی ہے۔ دوسری قسم کے پتے بڑے بڑے اور پہلی قسم کی نسبت چوڑے ہوتے ہیں۔ جن کی بناوٹ پان کے پتہ کی طرح ہوتی ہے۔ اس کی بیل پھیلتی ہے اور دوسری چیزوں پر چڑھ جاتی ہے۔ اس بوٹی کی جڑ پتلی و لمبی ہوتی ہے۔ اس پر شاخیں ہوتی ہیں اور شاخوں پر پتے جن کی رنگت گہری سبز ہوتی ہے۔ پکنے پر شاخوں اور پتوں کے پاس ڈوڈی...