درویش شریں
شِریں درویش! گاؤں کے ساتھ اک ملحقہ گاؤں ھے ،کوٹلہ چاکر خان ، وہاں کے اک درویش منش کسان آدمی کے ہاں ہم لسی پینے گئے. اس بھلے مانس کی آدھ ایکڑ زرعی اراضی تھی ،کہنے لگا میری آدھا ایکڑ زمین سالوں سے یوں استعمال میں ھے، کہ ہر سال چیت کے موسم میں "شَریں" جو مقامی بہت دراز اور معقول سفید Bark کا حامل درخت ھے، بہت تیزی سے بڑھتا ھے چھاؤں بھی اسکی بڑی نرالی ھے نہ زیادہ جگہ گھیرتا ھے ،ہر اس موسم میں اس مختص جگہ پہ شریں کے بیج بوتا ھوں اور اگلے سال اسی موسم کو وہ پودے اکھیڑ کر،اپنے چھوٹے لڑکے کے ہمراہ کَسی سنبھالکر .گاؤں کی بل کھاتی ٹیڑھی میڑھی سڑکوں کے ساتھ ساتھ قطار اندر قطار Row by row کھڈے کھودتا چلا جاتا ھوں جڑیں دفن کرتا چلا جاتا ھوں، بستی کے اطراف سڑک کے ساتھ ساتھ تین ہزار سے زائد شریں درخت میرے لگائے ہوئے ،ہر پودا بونے کے بعد ، اسکے پہلو میں دو رکعت نفل پڑھتا ھوں اور عہد کرتا ھوں میں ان درویش پودوں کی مجاوری مرتے دم تک کروں گا ،ہاں صاحب ، گھٹنوں اب دم نہیں رہا ،اپنے چھوٹے لڑکے کو ان درختوں کا خلیفہ مجاز بنا رکھا ھے ( شِریں وسیب میں بوہڑ کے بعد دوسرا بڑا درویش درخت مانا جاتا ھے ہ...