ذہانت
اصل ذہانت کیا ہے؟ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ جو انسان بہت زیادہ کتابیں پڑھتا ہے، مشکل سوالوں کے جواب دیتا ہے، تیزی سے حساب کرتا ہے یا بڑی بڑی دلیلیں دیتا ہے، وہ بہت ذہین ہے۔ لیکن فلسفی جے کرشنا مورتی کہتے ہیں کہ علم اور ذہانت ایک چیز نہیں ہیں۔ انسان ہزاروں کتابیں پڑھ سکتا ہے، بڑی ڈگریاں حاصل کرسکتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی بنا سکتا ہے، لیکن پھر بھی وہ نفرت، خوف، حسد اور انا کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے پاس علم تو موجود ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کے پاس حقیقی ذہانت بھی ہو۔ عقل اور ذہانت میں فرق عقل ہمیں سوچنے، حساب لگانے اور منصوبہ بنانے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن ہماری سوچ زیادہ تر ماضی کے علم، یادوں اور تجربات سے بنتی ہے۔ اسی لیے ہماری سوچ ہمیشہ مکمل نہیں ہوتی۔ مثلاً ہم اپنے سامنے سانپ دیکھیں تو فوراً پیچھے ہٹ جاتے ہیں کیونکہ ہمیں خطرہ نظر آجاتا ہے۔ لیکن جب ہمارے اندر حسد، نفرت، خوف یا غصہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اسے خطرہ سمجھ کر فوراً نہیں روکتے۔ ہم بعض اوقات برسوں تک غصہ اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ قوم، زبان، مذہب یا دولت کی بنیاد پر دوسرے انسانوں کو خود سے الگ سمجھتے ہیں۔ پھر بھی خود کو ...