Posts

لاہور کا پانی والا تالاب

 یہاں انگریزی متن کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے انجینئرنگ تصورات کو برطانیہ میں پہلے ہی منصوبوں جیسے کہ: · ریڈ ہل ریزروائر · پیپل وِک ریزروائر · انگلینڈ میں متعدد میونسپل واٹر ورکس کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جا چکا تھا۔ لاہور کا نظام وکٹورین برطانیہ میں اپنائے گئے بہت سے ایسے ہی اصولوں کا استعمال کرتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا تھا: · مرکزی پمپنگ · بلند ذخیرہ اندوزی · لوہے کے پائپوں کا نیٹ ورک · بھاپ سے چلنے والی مشینری · کششِ ثقل سے چلنے والی تقسیم لاہور میں نصب کی گئی مشینری برطانوی انجینئرنگ فرموں نے تیار کی تھی جو انگلینڈ میں واٹر ورکس کو بھی اسی طرح کا سامان فراہم کرتی تھیں۔ پانی والا تالاب کی تعمیر یہ آخری ذخیرہ (ریزروائر) لیفٹیننٹ گورنر چارلس امپھرسٹن ایچیسن کے دورِ انتظامیہ میں تعمیر کیا گیا تھا اور 1880 کی دہائی کے اوائل میں اس کا افتتاح ہوا۔ زیادہ تر تاریخی مآخذ اس تالاب کی تکمیل کی تاریخ 1883-1884 بتاتے ہیں۔ اس مقام کو جان بوجھ کر منتخب کیا گیا تھا کیونکہ یہ اندرونِ شہر (دیوار والے شہر) کا سب سے بلند نقطہ تھا۔ انجینئروں نے سمجھ لیا تھا کہ کششِ ثقل پانی کو محض پمپوں کے م...

درویش شریں

 شِریں درویش! گاؤں کے ساتھ اک ملحقہ گاؤں ھے ،کوٹلہ چاکر خان ، وہاں کے اک درویش منش کسان آدمی کے ہاں ہم لسی پینے گئے. اس بھلے مانس کی آدھ ایکڑ زرعی اراضی تھی ،کہنے لگا میری آدھا ایکڑ زمین سالوں سے یوں استعمال میں ھے، کہ ہر سال چیت کے موسم میں "شَریں" جو مقامی بہت دراز اور معقول سفید Bark کا حامل درخت ھے، بہت تیزی سے بڑھتا ھے چھاؤں بھی اسکی بڑی نرالی ھے نہ زیادہ جگہ گھیرتا ھے ،ہر اس موسم میں اس مختص جگہ پہ شریں کے بیج بوتا ھوں اور اگلے سال اسی موسم کو وہ پودے اکھیڑ کر،اپنے چھوٹے لڑکے کے ہمراہ کَسی سنبھالکر .گاؤں کی بل کھاتی ٹیڑھی میڑھی سڑکوں کے ساتھ ساتھ قطار اندر قطار Row by row کھڈے کھودتا چلا جاتا ھوں جڑیں دفن کرتا چلا جاتا ھوں، بستی کے اطراف سڑک کے ساتھ ساتھ تین ہزار سے زائد شریں درخت میرے لگائے ہوئے ،ہر پودا بونے کے بعد ، اسکے پہلو میں دو رکعت نفل پڑھتا ھوں اور عہد کرتا ھوں میں ان درویش پودوں کی مجاوری مرتے دم تک کروں گا ،ہاں صاحب ، گھٹنوں اب دم نہیں رہا ،اپنے چھوٹے لڑکے کو ان درختوں کا خلیفہ مجاز بنا رکھا ھے ( شِریں وسیب میں بوہڑ کے بعد دوسرا بڑا درویش درخت مانا جاتا ھے ہ...

80 year history of UET by Dr Neelum Naz

 ذیل میں دی گئی عبارت "University_of_Engineering_and_Technology.pdf" کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اس ترجمے میں اصل دستاویز کے تمام اہم عناصر، عنوانات، ذیلی عنوانات، جدولوں اور اعداد و شمار کے حوالوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ --- [فائل کا نام]: University_of_Engineering_and_Technology.pdf ===== صفحہ 1 ===== یو ای ٹی، لاہور: تاریخ کے 80 سال ڈاکٹر نیلم ناز\* \* پروفیسر، شعبہ فن تعمیر، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور۔ خلاصہ پاکستان میں انجینئرنگ تعلیم کی تاریخ یو ای ٹی، لاہور کے 1921 میں بطور ٹیکنیکل کالج قیام کے ساتھ ہی شروع ہوتی ہے۔ پاکستان کا یہ سب سے مشہور اور قدیم ترین ادارہ پچھلے 80 سالوں سے ملک میں انجینئرنگ تعلیم کا مرکز رہا ہے اور صنعت کے متنوع تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس ادارے کے فارغ التحصیل افراد ہمارے ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ آزادی کے بعد سے اس ادارے نے ممتاز انجینئرز پیدا کیے ہیں جنہوں نے مختلف شعبوں میں ملک کا نام روشن کیا ہے۔ آج یہ ادارہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ اور اچھی طرح س...

EV

 <!DOCTYPE html> <html lang="en"> <head> <meta charset="UTF-8"> <meta name="viewport" content="width=device-width, initial-scale=1.0"> <title>EV Ecosystem Block Diagram</title> <style>   body {     font-family: 'Segoe UI', sans-serif;     background: #f0f4f8;     display: flex;     justify-content: center;     align-items: center;     min-height: 100vh;     margin: 0;     padding: 20px;     box-sizing: border-box;   }   .diagram-wrapper {     background: white;     border-radius: 16px;     padding: 40px;     box-shadow: 0 4px 24px rgba(0,0,0,0.10);     max-width: 900px;     width: 100%;   }   h2 {     text-align: center;     color: #1e293b;     margin-bottom: 40px;     font-size: 1.4rem;     letter-spacing: 0.5px;...

Brain Gain by Dr Rashad Ramzan

*Brain Gain and 3-Sigma* By Rashad Ramzan   برس قبل ، 1990 کی ایک تپتی گرم دوپہر کو ہم اولڈپینٹ  الیکٹریکل انجینئرنگ کی 3 فٹ چوڑی دیواروں اور 40 فٹ اونچی چھت والی بلڈنگ کے اندر ہم سراپا انتظار تھے ۔ باہر کی حدت کی نسبت سے اندر موسم قدرے قابل برداشت تھا۔ انتظار طول پکڑ رہا تھا کہ کب Statistics کا لیکچر شروع ہوگا؟ 1928 کے انگلینڈ کے بنے ہوئے چند پنکھے جو 20 فٹ لمپے پائپ سے لٹکے ہوئے نمی سے بوجھل ہوا کو ہلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ طلبا اور طالبات اور پنکھوں پر یکساں قسم کی بے زاری طاری تھی۔ ہماری آنکھیں بھی نیند سے بوجھل ہوئے چلی جا رہی تھیں۔ اتنی دیر میں تقریباً نیم استری شدہ شلوار قمیض پہنے ایک صاحب جنہوں نے ہٹلر سے دگنی سائز کی کھچڑی مونچھیں رکھیں تھیں، لیکن ڈھیل ڈھول اور اپنی توند سے بھولو پہلوان کے ساتھی لگ رہے تھے، کلاس میں داخل ہوئے۔ چونکہ حلیہ بالکل پروفیسر حضرات والا نہیں تھا، اس لیے کسی نے خاص توجہ نہ دی۔ ان کے ہاتھ کسی بھی قسم کے رجسٹر، کتاب اور کاپی سے خالی تھے۔ تھوڑی دیر اپنے بڑے سے پیٹ پر ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے اور پھر بالکل گوالمنڈی کے لہجے میں بولے کہ "...