Brain Gain by Dr Rashad Ramzan

*Brain Gain and 3-Sigma* By Rashad Ramzan 

 برس قبل ، 1990 کی ایک تپتی گرم دوپہر کو ہم اولڈپینٹ  الیکٹریکل انجینئرنگ کی 3 فٹ چوڑی دیواروں اور 40 فٹ اونچی چھت والی بلڈنگ کے اندر ہم سراپا انتظار تھے ۔ باہر کی حدت کی نسبت سے اندر موسم قدرے قابل برداشت تھا۔ انتظار طول پکڑ رہا تھا کہ کب Statistics کا لیکچر شروع ہوگا؟ 1928 کے انگلینڈ کے بنے ہوئے چند پنکھے جو 20 فٹ لمپے پائپ سے لٹکے ہوئے نمی سے بوجھل ہوا کو ہلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ طلبا اور طالبات اور پنکھوں پر یکساں قسم کی بے زاری طاری تھی۔ ہماری آنکھیں بھی نیند سے بوجھل ہوئے چلی جا رہی تھیں۔ اتنی دیر میں تقریباً نیم استری شدہ شلوار قمیض پہنے ایک صاحب جنہوں نے ہٹلر سے دگنی سائز کی کھچڑی مونچھیں رکھیں تھیں، لیکن ڈھیل ڈھول اور اپنی توند سے بھولو پہلوان کے ساتھی لگ رہے تھے، کلاس میں داخل ہوئے۔ چونکہ حلیہ بالکل پروفیسر حضرات والا نہیں تھا، اس لیے کسی نے خاص توجہ نہ دی۔ ان کے ہاتھ کسی بھی قسم کے رجسٹر، کتاب اور کاپی سے خالی تھے۔ تھوڑی دیر اپنے بڑے سے پیٹ پر ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے اور پھر بالکل گوالمنڈی کے لہجے میں بولے کہ "میرا نام ڈاکٹر بشیر صادق ہے اور میں آپ کو Statics پڑھانے پر آیا ہوں، اب آپ میری طرف توجہ فرمائیں! اس کے بعد اس "بھولو پہلوان" کے ڈیل ڈھول اور گوالمنڈی لہجے والے پروفیسر نے ہم کو مسلسل حیران کیا۔ اور کرتے ہی چلے گئے۔ ہم گداز دل، دہقانی عقل اور جھینپو طنعیت رکھتے تھے ۔اس لیے ہر اچھی شکل اور اچھی عقل والے پر لٹو ہو جاتے تھے۔ جھینپو طبعیت کا بے حد فائدہ ہوا کہ یہ تمام عشق مکمل یک طرفہ رہے اور اس اندرونی ہنگامے کی کسی کو کان و کان خبر نہ ہوئی۔ ڈاکٹر بشیر صادق کلاس میں آتے چاک پکڑتے اور 40 لائن اور 6 کالم تک کے سٹیٹ کے ٹیبل تین درجے اعشاریہ تک منہ زبانی لکھتے اور اس میں ایک غلطی بھی نہ ہوتی۔ اور پھر رفتہ رفتہ ہم ان کے زیرِ اثر آتے چلے گئے۔ انہوں نے ہم کو بتایا کہ دنیا Exponential فنکشن پر بنی ہے کیونکہ اس کی Integration اور Differentiation دونوں e^x ہیں. اور یہ خود ہی گل ہیں اور خود ہی گل کوزہ اور خود ہی کوزہ۔ اور یہ اس فنکشن کا اعجاز ہے کہ اس کو آفاقی فنکشن یا گاڈ فنکشن بھی کہا جاتا ہے۔ اب اس آفاقی خوبی کو Gaussian نے قدرتی طور پر معلوم ڈیٹا کے اوپر آزمایا تو Gaussian Distribution وجود میں آئی۔ دنیا میں موجود ہر چیز جو قدرتی طور پر پائی جاتی ہے، وہ اسی Distribution کی مدد سے ماڈل کی جا سکتی ہے۔ درخت کے پتوں کی لمبائی، ریت کے ذروں کا وزن، انسانوں کے قد یا ستاروں سے ٹوٹ کر بننے والے پتھروں کا وزن یا گلے کے انفیکشن کر دوران بنے والے بیکٹریا کی تعداد سب کے سب اسی Gaussian Distribution کے تحت بنتے ہیں۔ اور پھر حیران کن بات کہ انسانوں کی قدرتی ذہانت اور خدا داد صلاحیتیں بھی اللہ تعالیٰ نے Gaussian Distribution کے تحت ہی دنیا میں تقسیم کی ہیں۔ *یہ بات غیر محسوس اندرونی صلاحیتوں پر بھی پوری طرح صادق آتی ہے ۔ اعلیٰ صلاحیت کے نوجوان جو High IQ کے ساتھ، بے لوث جذبہ، محنت کی لگن، صبر اور ٹھوکر کھا کر اٹھنے کی قدرتی صلاحیت سے مالا مال ہوں، ان کی تعداد 3 ± σ سے باہر ہوتی ہے جو کہ %0.135 کے قریب بنتا ہے* قدرت ہر قوم، ہر رنگ، ہر نسل اور ہر خطے میں یہ لوگ پیدا کرتی ہے ۔ یہ لوگ ان قدرتی صلاحیتوں اور اوصاف سے مالا مال ہوتے ہیں جو ان کو بڑا مدبر ، بے لوث رہنما، ایماندار سیاست دان، عالم استاد، حاذق ڈاکٹر، باکمال موجد اور معجزاتی انجینئر بناتی ہے۔ ہر قوم خواہ وہ کتنی ہی کسمپرسی کی حالت میں ہو، ان کی تعلیم اور تربیت کا خرچہ اٹھاتی ہے اور اپنا پیٹ کاٹ کر ان کا پیٹ پالتی ہے کر ان کی بنیادی تعلیم اور تربیت کا اپنی سمجھ کے مطابق بندوبست کرتی ہے۔ اب کالونیاذم کے بعد، بین الاقوامی سطح پر *خوشحال قومیں* یہ راز پا چکی تھیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی اس دنیا میں یہ 3σ سے باہر والے %0.135 کسی بھی قوم کا اصل اور حقیقی سرمایہ ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر اپ خالی ہاتھ صحرا میں بھی چھوڑ آئیں تو یہ اپنے جنون اور لگن اور محنت سے وہاں گلشن آباد کر لیں گے۔ یہ نظام بھی بنائیں گے اور اسکو چلائیں گے اور اس پر علم بھی کروائیں گے اور ایجاد بھی کریں گے اور اسکو ایجاد سے دولت بھی پیدا کریں گے۔ خوشحال قومیں اب پوری دنیا سے ان 3σ کے باہر والے %0.135 نوجوانوں کو اپنے ہاں لانے کے لیے طرح طرح کے خوش رنگ پروگرام برپا رکھتی ہیں۔ یہ کھبی اسکالرشپ ہوتے ہیں اور کبھی ٹیلنٹ ویزا اور کھبی پاسپورٹ کا حصول۔ اس میں شخصی آزادی کی دلفریبی بھی ہوتی ہے اور خوبصورت ساتھیوں کا ساتھ بھی۔ ڈالروں سے بھری تجوریاں کی چھنچھایٹ بھی ہوتی ہے اور علم و فن سے بھرپور زندگی بھی۔ یہ زندگی، جذبے اور حرارت سے بھرپور %0.135 نوجوان تیسری دنیا کی حبس زدہ کراہتی ہوئی زندگی، مچھر، مکھیوں اور گندگی سے بھری گلیاں چھوڑ کر وہاں پہنچتے ہیں تو جنت نظیر ملکوں میں ان کو وہ سب میسر آ جاتا ہے جس کی اس فانی دنیا میں کسی کو بھی تمنا ہوتی ہے۔ اب یہ نوجوان اپنے آبائی وطن سے اسکالرشپ لے کر گئے ہوں یا اسکالرشپ جیت کر گئے ہوں یا جاب پر ، ان کا واپس آنے کو من کرے تو کائے کو کرے؟ ہم نے خود یہ ذائقہ چکھا ہے۔ زلیخہ کی سہیلیوں کی طرح ملامت کسطرح کریں۔ Intel، Qualcomm اور Nvidia جیسے جگہوں پر کام کرنے کے بعد اور اپنی علم و فن میں اپنی صلاحیت کی انتہا کو چھونے کے بعد ، اپنی محنت کا صلہ ڈالروں میں پانے کے بعد ،۔۔واپس آ کر ۔۔۔۔ نیم خواندہ اور نیم جاہل بے ہنگم عوام ، تکبر پسند بیوروکریسی، اور قبضہ ذہنیت کی مالک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کون ماتھا پھوڑے؟ اور جن چند دیوانوں نے یہ کوشش کی، ان کی عبرت ناک مثالیں بھی اکا دکا نظر آتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد %0.135 والے اس بلاصلاحیت طبقے کا تعلق اپنے ماں باپ کے فوت ہونے تک مضبوطی سے اس زمین سے جڑا رہتا ہے جہاں پر وہ پیدا ہوئے ۔ اور پھر رفتہ رفتہ وہ رشتہ معدوم ہو جاتا ہے۔ یہ %0.135 والے اعلی صلاحیتوں سے مالا مال جب ادھیڑ عمر کو پہنچتے ہیں تو ان کے دو گروہ بن جاتے ہیں۔ ایک وہ جن کو جنم بھومی ، وطن اور لوگوں کی محبت یاد آتی ہے اور وہ ان کے لیے کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں، *یہ پر خلوص اور بے لوث لوگ ہمارے فائدے کے ہیں ان کو موقع دینا ہوگا اور ان کو مرشد اور مربی ماننا ہوگا اور یہ موجودہ حالات میں سرمایہ بھی ہیں اور امید کی کرن اور پاکستان میں موجود نوجوانوں کے لئے مینار بھی اور مینٹر بھی* لیکن ساتھ ساتھ ہم کو ہوشیار بھی رہنا ہو گا۔ اس پہلے گروہ کے چند لوگ مادہ پرستانہ روش کو اپنا کر گدھ کا روپ بھی دھار جاتے ہیں۔ ان کی نشانی کیا ہے۔ جھوٹ اور بے تکان جھوٹ ۔ وہ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اور کبھی ان پر عمل کی طرف نہیں آتے وہ پائیڈ پائپر کی طرح بستی کے خوشحال مگر کم علم لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں۔ وہ ہر جگہ اگلی قطار میں بیٹھنا چاہتے ہیں ۔ وہ شاید خود بھی نہیں جانتے کہ وہ راجہ گدھ بن چکے ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو اب سارا زور اس بات پر صرف کر دیتے ہیں کہ ان کا مستقل ہجرت کا فیصلہ ٹھیک تھا اور یہ ملک نہ کبھی رہنے کے قابل تھا نہ ہے اور نہ ہو گا اور اس ملک کے باشندے کبھی ترقی نہیں کر سکتے ۔ *ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ اور ان کے لیے دعا کریں۔ اگر اپ ان لوگوں سے گہری رسم و راہ رکھیں گے تو اپ عمل کی قوت سے محروم ہو جائیں گے۔ یہ بذات خود قابل رحم ہیں*۔ یہ بھلے مانس یہ کبھی نہیں سوچتے کہ یہ ہی تو وہ %0.135 لوگ تھے *جن کو قدرت نے اس قوم کے حالات کو بدلنے کے لیے پیدا کیا تھا اور وہ صلاحیت بخشی تھی کہ پتھر کے اندر سے چشمہ نکال سکتے تھے۔* اور یہ اپنا کام سمندر پار جا کرتے رہے اور وہاں واقعی انہوں نے معجزے برپا کر دیئے ۔ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ جب یہ لاکھوں کی تعداد میں چلے گئے اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئے تو ان کی جگہ وہ لوگ آئے جن کی قدرتی صلاحیت دوسرے درجے کی تھی۔ اور دوسرے درجے کے لوگ پہلے درجہ کا کام کرنے کی نہ صلاحیت رکھتے تھے اور نہ اہلیت۔ مغرب کے سارے ممالک %0.135 والے بلاصلاحیت لوگوں کو ہی جگہ دیتے ہیں دوسرے درجے والوں کی ان کے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ *میرے نزدیک یہ ساری تیسری دنیا کا اصل المیہ ہے* جس کی وجہ سے یہ کبھی بھی ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل نہ ہو سکیں گے۔ *جب تک کہ ہم ان %0.135 والے با صلاحیت نوجوانوں کا خواب بدل نہیں دیتے۔* *اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔ اصل اور حقیقی راستہ ہمیشہ طویل اور پر مشقت ہوتا ہے۔* *اب آئیے وجوہات کا تعین کرنے کے بعد اس کا حل ڈھونڈتے ہیں* عام لوگوں کو ملک سے جانے کی کھلی چھوٹ دے دیں۔ سعودی عرب اور یو اے ای اور گلف کے سارے محنت کش اور مزدور اسی درجے میں آتے ہیں۔ ان کو بنیادی ہنر سکھائیں اور ان کو دوسرے ممالک میں اچھی جگہ دلوائیں۔ یہ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اور %80 زرمبادلہ یہ مزدور بھجواتے ہیں جن کے خاندان پاکستان کے اندر آباد ہیں۔ صرف گلف کے اندر 75 لاکھ پاکستانی مزدور کام کرتے ہیں جس سے 5 کروڑ پاکستانیوں کی روزی روٹی کا انتظام چلتا ہے۔ اب آئیں %0.135 والے اصل باصلاحیت لوگوں کی طرف ۔ جو گزشتہ 40 سالوں میں پاکستان سے باہر چلے گئے اور *بیرون ملک اچھی جگہ اور اچھے عہدوں پر فائز ہیں، ان کے اندر سے دردِ دل رکھنے والے احباب کو تلاش کیا جائے اور ان کو پاکستان کے اندر ٹیکنالوجی اور بزنس کے لیے پُل کا کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا جائے*۔ اور %0.135 والے جو نوجوان لوگ جو اس وقت 20 سے 30 سال کی عمر کے ہیں، وہ ہمارا اصل ہدف اور سرمایہ ہیں۔۔ ان لوگوں کو پڑھنے اور کام کرنے اور سیکھنے کے لیے دنیا کی بہترین درسگاہوں اور کمپنیوں میں جانے کا راستہ ہموار کیا جائے *مگر ان کے خواب بدلنے کے بعد* خواب بدلنے کے بعد وہ پھر اس سرزمین کی طرف اس طرح لوٹیں گے جس طرح اندلس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد یورپی لوٹے اور یورپ کے اندر اگلی ایک صدی کے اندر ذہنی، فکری اور سائنسی اور معاشی انقلاب پیدا کر دیا۔ *%0.135 والے یہ بلاصلاحیت نوجوان ہی ہماری آخری امید ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کی خوشحالی کی طرف جانے والا حقیقی راستہ۔ یہ راستہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔* اب آخر میں اس کا خلاصہ پیش کرتا ہوں۔ مزدوروں کو باہر جانے دیں اور ان کے شکر گزار ہوں کہ وہ آپ کو کما کر کھلا رہے ہیں۔ اپنے ہونہار بچوں کی ذہنی تربیت اس طرح کریں کہ وہ باہر جا کر سیکھ کر اور کما کر آئیں اور یہاں آ کر بیج بو دیں اور پھر اسکو پانی دیں۔ ان کے اندر اس جنگ کو لڑنے کا پوٹینشل موجود ہے۔ اور تمام آبادی اور سسٹم کو بدل سکے ہیں کیونکہ وہ بلاصلاحیت ہیں۔ *صرف دو سخت جان نسلوں کے با صلاحیت نوجوانوں کو قربانی دینی ہوگی* جس طرح پاکستان بننے کے وقت دو نسلوں نے قربانی دی تھی۔ پھر ہمارے یہاں یہ ماحول پیدا ہو جائے گا کہ لوگ اچھی اور آرام دہ زندگی، قانون کے دائرے کے اندر والے ماحول، صاف ہوا اور اچھی صحت کے لیے یہاں آئیں گے۔ ان کو رقم بھی اچھی ملے گی اور بزنس اور ٹیکنالوجی کا شاندار ماحول بھی۔ اسوقت قربانی کی ضرورت نہ ہو گی لوگ اچھے زندگی اور بہتر مواقع کے لیے یہاں آئیں گے۔ لکھتے ہوئے کئی گھنٹے گزر گئے بات طولانی اور رات بہت گہری ہو گئی اب ختم کرتا ہوں۔ آپ کی رائے کا منتظر ہوں۔ واسلام

Comments

Popular posts from this blog

page 12

پانی کے لیے جدوجہد اب بھی جاری ہے

Page 13