Posts

Showing posts from March, 2026

Brain Gain by Dr Rashad Ramzan

*Brain Gain and 3-Sigma* By Rashad Ramzan   برس قبل ، 1990 کی ایک تپتی گرم دوپہر کو ہم اولڈپینٹ  الیکٹریکل انجینئرنگ کی 3 فٹ چوڑی دیواروں اور 40 فٹ اونچی چھت والی بلڈنگ کے اندر ہم سراپا انتظار تھے ۔ باہر کی حدت کی نسبت سے اندر موسم قدرے قابل برداشت تھا۔ انتظار طول پکڑ رہا تھا کہ کب Statistics کا لیکچر شروع ہوگا؟ 1928 کے انگلینڈ کے بنے ہوئے چند پنکھے جو 20 فٹ لمپے پائپ سے لٹکے ہوئے نمی سے بوجھل ہوا کو ہلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ طلبا اور طالبات اور پنکھوں پر یکساں قسم کی بے زاری طاری تھی۔ ہماری آنکھیں بھی نیند سے بوجھل ہوئے چلی جا رہی تھیں۔ اتنی دیر میں تقریباً نیم استری شدہ شلوار قمیض پہنے ایک صاحب جنہوں نے ہٹلر سے دگنی سائز کی کھچڑی مونچھیں رکھیں تھیں، لیکن ڈھیل ڈھول اور اپنی توند سے بھولو پہلوان کے ساتھی لگ رہے تھے، کلاس میں داخل ہوئے۔ چونکہ حلیہ بالکل پروفیسر حضرات والا نہیں تھا، اس لیے کسی نے خاص توجہ نہ دی۔ ان کے ہاتھ کسی بھی قسم کے رجسٹر، کتاب اور کاپی سے خالی تھے۔ تھوڑی دیر اپنے بڑے سے پیٹ پر ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے اور پھر بالکل گوالمنڈی کے لہجے میں بولے کہ "...

Namaz

 نماز کا ایک انوکھا اور حیران کن پہلو: آج فجر کے بعد ‏میں تلاوت کر رہا تھا تو سورہ المعارج کی ایک آیت پر آ کر رک سا گیا بات انسان کی تخلیق کے بارے میں تھی کہ انسان اصل پیدا کیسا ہوا ہے ایسی کوئی بھی آیت آئے تو میں رک کر تھوڑا سا سوچنے لگتا ہوں۔ آیت تھی: "اِنَّ  الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ھلوعا" حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے ‏ میں نے انگریزی ترجمہ دیکھا، تو ”ھلوعا“ کا مطلب اینگوئش لکھا تھا، اب اینگوئش کا مطلب اردو میں سمجھوں تو یہی لگتا ہے کہ ایسا انسان جس میں بے چینی، تشویش، یا بے صبری سی ہو بہرحال میں نے”کم ہمت“پر ہی اکتفا کر لیا اور اسے بے صبری کے معنوں میں لے لیا۔اگلی آیت کچھ اور بھی معنی خیز تھی:  ‏ "اِذَا مَسَّہُ  الشَّرُّ  جَزُوۡعًا" جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے ”جزوعا“ کا لفظ تو مجھے سمجھ آ گیا، انگریزی میں ترجمہ بھی قریب قریب ہی تھا، امپیشنٹ، مطلب بے چین، یعنی تکلیف پہنچے تو انسان چاہتا ہے بس اب یہ رفع ہو جائے، بس ختم ہو جائے کسی طرح "وَّ اِذَا مَسَّہُ  الۡخَیۡرُ  مَنُوۡعًا" اور جب اس کے پاس خوشحالی آتی ہے تو بہ...