صفحہ 12 نہانے کا وقت آٹھ بج کر تیس منٹ پر فزیو تھراپسٹ آتی ہے۔ بریجیت، ایک ایتھلیٹک جسم کی حامل اور شاہانہ رومی خدوخال رکھنے والی خاتون، میری سخت ہو چکی بانہوں اور ٹانگوں کی ورزش کروانے آتی ہے۔ وہ اس مشق کو "موبلائزیشن" کہتی ہیں، ایک ایسا لفظ جس کے جنگی مفہوم میرے کمزور جسمانی حالات کے ساتھ مضحکہ خیز تضاد رکھتے ہیں، کیونکہ میں صرف بیس ہفتوں میں چھیاسٹھ پاؤنڈ وزن کھو چکا ہوں۔ جب میں نے فالج سے ایک ہفتہ پہلے غذا شروع کی، تو میں نے کبھی اتنی ڈرامائی تبدیلی کا خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔ جب وہ کام کرتی ہے، بریجیت بہتری کی معمولی سی علامت کو بھی تلاش کرتی ہے۔ "میرا ہاتھ دبانے کی کوشش کرو،" وہ کہتی ہے۔ چونکہ کبھی کبھی مجھے وہم ہوتا ہے کہ میں اپنی انگلیاں ہلا رہا ہوں، میں اپنی توانائی اس کی انگلیوں کے جوڑوں کو دبانے میں لگا دیتا ہوں، لیکن کچھ نہیں ہوتا، اور وہ میرے بے حس ہاتھ کو جھاگ والے پیڈ پر رکھ دیتی ہے۔ حقیقت میں، واحد تبدیلی جو میں محسوس کر سکتا ہوں وہ میری گردن میں ہے۔ اب میں اپنا سر نوے ڈگری تک موڑ سکتا ہوں، اور میری نظر کا دائرہ اس عمارت کی سلیٹ چھت سے آگے بڑھ چکا ہ...
کسی بھی معاشرے کو ہم تین درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلی قسم وہ ہے جس میں عمل کا پورا بدلہ یا تو نہیں دیا جاتا یا اس کے بدلے میں کوئی ایسا عمل کیا جاتا ہے جس سے اصلی عمل کا فائدہ بھی جاتا رہتا ہے۔ جیسا کہ ایک ملازم کو رکھا جاتا ہے اور وہ مطلوبہ ڈیوٹی انجام نہیں دیتا۔ یا ایسا دکاندار جو قیمت لے لیتا ہے مگر سودا پورا نہیں تولتا۔ اور اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اس نے چالاکی سے زیادہ منافع کما لیا۔ پسماندہ دیہی علاقے یا گنوار ممالک اس کا مثالیں ہیں۔ ان جگہوں پر انسانی حقوق شاذروناذر ہی پورے ادا کئے جاتے ہیں ۔ اس کو غبی معاشرہ کہا جا سکتا ہے۔ کوئی ایسا معاشرہ جہاں قیمت کے حساب سے پورا تولا جاتا ہو ۔ ملازم اور آجر کے حقوق معیٌن ہوں اور ان کو پورا ادا کیا جاتا ہو وہ دوسری قسم کا معاشرہ ہو گا۔ اس میں مالک کو یہ احساس ہے کہ ملازم یا ورکر کے وقت اور محنت کا بدلہ دینا ضروری ہے ۔ ملازم یا ورکر بھی احساس کرے کہ اجرت کمانے کا جو موقع اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے اس کا حق ادا کرے۔ یہ اسی وقت ہو گا جب وہ کام کو مالک کی مرضی کے مطابق خوش اسلوبی سے ادا کرے۔ بڑے شہروں میں یا ترقی یافتہ ممالک میں اس طرح ...
مومن از عشق است و عشق از مومن است عشق را ناممکن ما ممکن است مومن عشق سے بنتا ہے اور عشق مومن کی بدولت ہے عشق کی وجہ سے ہمارے لئے ناممکن بھی ممکن ہو گیا عقل سفاک است و اُو سفاک تر پاک تر ، چالاک تر ، بیباک تر عقل سفاک ہے اور عشق اس سے زیادہ سفاک ہے کیونکہ عشق پاک ہے ، چالاک ہے اور نڈر ہے عقل درپیچاک اسباب و علل عشق چوگاں باز میدان عمل عقل دلائل و اسباب میں پھنسی رہتی ہے جبکہ عشق میدان عمل میں چوگان(پولو) کا کھیل کھیلتا ہے
Comments
Post a Comment