تاجروں کے لئے حضرت علی کی ہدایات

 حضرت علی رضی اللہ تعالٰی  کی مالک اشتر کو ہدایت


تاجروں اور صنعت کاروں سے ان کے نیک مشورے قبول کرو اور انھیں نیکی کی دعوت دو, چاہے وہ جو مستقل ایک جگہ رہ کر تجارت اور کام کرتے ہیں یا وہ جو اپنا سرمایہ و مال یہاں سے وہاں لے جاتے اور اپنے بدن سے بھی کام لیتے ہیں, یہ لوگ منفعت کے سرچشمے, آرام کے وسائل اور دور دراز کے علاقوں بیابانوں, سمندروں ِجنگلوں. سنگلاخ وادیوں اور ایسی جگہوں سے منافع وارد کرنے والے ہیں جہاں ہر ایک جانے کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔ پس ان کی عزت و حرمت محفوظ رکھو, ان کی راہوں کو پرامن بناؤ اور ان کے حقوق حاصل کرو کہ یہ لوگ صلح و امن والے ہیں ان کی طرف سے کوئی خوف وخطر نہیں ہے۔ یہ حضر میں ہوں یا سفر میں ان کے معاملات حل کرو۔ ساتھ ہی یہ بھی جان لو کہ ان میں سے بہت سے لوگ بہت زیادہ تنگ نظر, بڑے لالچی اور بخیل ہیں۔ وہ اموال کی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں یعنی دین میں زور و زبردستی اور مکر و فریب سے کام لیتے ہیں۔ یہ سب کے لئے ضرر اور نقصان کا دروازہ اور حکام کے لئے ننگ وعار کا سبب ہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کو ذخیرہ اندوزی سے روکو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلٌم نے اس عمل سے منع فرمایا ہے۔ خرید و فروخت سہل و آسان طریقے سے عدل کی ترازوؤں اور ایسی قیمتوں سے جو دونوں طرف (یعنی تاجر و خریدار) کے لئے ظلم و زیادتی نہ ہو انجام پانا چاہیے پس اگر تمھارے منع کرنے کے بعد کسی نے ذخیرہ اندوزی کی تو اس کے ساتھ سختی کے ساتھ نمٹو اور بغیر کسی غصٌہ یا تیزی کے اسے سزا دو (کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلٌم نے ایسا ہی کیا ہے )

Comments

Popular posts from this blog

پانی کے لیے جدوجہد اب بھی جاری ہے

page 12

page 11