معاشروں کی اقسام
کسی بھی معاشرے کو ہم تین درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
پہلی قسم وہ ہے جس میں عمل کا پورا بدلہ یا تو نہیں دیا جاتا یا اس کے بدلے میں کوئی ایسا عمل کیا جاتا ہے جس سے اصلی عمل کا فائدہ بھی جاتا رہتا ہے۔ جیسا کہ ایک ملازم کو رکھا جاتا ہے اور وہ مطلوبہ ڈیوٹی انجام نہیں دیتا۔ یا ایسا دکاندار جو قیمت لے لیتا ہے مگر سودا پورا نہیں تولتا۔ اور اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اس نے چالاکی سے زیادہ منافع کما لیا۔ پسماندہ دیہی علاقے یا گنوار ممالک اس کا مثالیں ہیں۔ ان جگہوں پر انسانی حقوق شاذروناذر ہی پورے ادا کئے جاتے ہیں ۔ اس کو غبی معاشرہ کہا جا سکتا ہے۔
کوئی ایسا معاشرہ جہاں قیمت کے حساب سے پورا تولا جاتا ہو ۔ ملازم اور آجر کے حقوق معیٌن ہوں اور ان کو پورا ادا کیا جاتا ہو وہ دوسری قسم کا معاشرہ ہو گا۔ اس میں مالک کو یہ احساس ہے کہ ملازم یا ورکر کے وقت اور محنت کا بدلہ دینا ضروری ہے ۔ ملازم یا ورکر بھی احساس کرے کہ اجرت کمانے کا جو موقع اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے اس کا حق ادا کرے۔ یہ اسی وقت ہو گا جب وہ کام کو مالک کی مرضی کے مطابق خوش اسلوبی سے ادا کرے۔ بڑے شہروں میں یا ترقی یافتہ ممالک میں اس طرح کے معاشرے پائے جاتے ہیں۔ اس معاشرے کو عملی معاشرہ کہا جا سکتا ہے جہاں انسان کی محنت کی قدر ہے اور معاشرہ ترقی کر پاتا ہے۔
تیسرا معاشرہ وہ ہے جس میں کسی کام کی جو اجرت ہے مالک اس سے زیادہ ادا کرے تاکہ ورکر کا خاندان نسبتاً اچھی زندگی گزار سکے۔ اسی طرح مزدور کی کوشش ہو کہ جس اجرت کا وہ مستحق ہے اس سے کچھ زیادہ کام کر دے۔ اس طرح معاشرے کے دونوں طبقات میں ہم آہنگی جنم لیتی ہے اور معاشرہ ترقی کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔ اسے ہم حٌسنی معاشرہ کہتے ہیں جہاں حسن سلوک کا دور دورہ ہو۔ ہم اپنے معاشرے کو وسائل کی قربانی دے کر با برکت بنا سکتے ہیں۔ آجر کچھ مال کی جبکہ مزدور کچھ وقت اور محنت کی قربانی دے۔
میرا یہ خیال ہے کہ پاکستان ابھی معاشرے کے دوسرے درجے تک بھی نہیں پہنچا۔
Comments
Post a Comment