کھانے کے اوقات

 *سورج غروب ہونے کے بعد کھانا کھانے کے اثرات پر یہ ایک مفصل علمی اور طبی خط ہے* 


فطرت کا قانون اور انسانی حیاتیات

اے عزیز دوست، حکیم و طبیب سید سلطان مہی الدین ملتانی ایک پرانے طبیب اور جدید معالج کے طور پر میں جب کائنات کے نظام پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ہر شے ایک ترتیب میں نظر آتی ہے۔ سورج کا ڈھلنا صرف دن کا اختتام نہیں بلکہ انسانی جسم کے اندرونی کیمیائی کارخانے کی شفٹ تبدیل ہونے کا وقت ہے۔ میں نے اپنے مطب میں سینکڑوں ایسے مریض دیکھے جو مہنگی ترین ادویات کھا رہے تھے، لیکن جیسے ہی انہوں نے سورج ڈھلنے کے بعد کھانے سے پرہیز کیا، ان کی بیماریاں ایسے رخصت ہوئیں جیسے اندھیرا سورج نکلنے پر غائب ہو جاتا ہے۔

جدید میڈیکل سائنس اور ہارمونز کی فزکس

جدید طب اس پورے عمل کو Circadian Rhythm (سرکیڈین ردھم) کے نام سے پکارتی ہے۔ انسانی جسم کے ہر خلیے میں ایک حیاتیاتی گھڑی نصب ہے۔

1۔ میلاٹونن اور انسولین کا تصادم (Melatonin vs Insulin):

جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے اور روشنی کم ہوتی ہے، دماغ کے ایک حصے (Pineal Gland) سے Melatonin نامی ہارمون خارج ہونا شروع ہوتا ہے۔ اس کا کام جسم کو نیند کے لیے تیار کرنا ہے۔ سائنسی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ میلاٹونن کی موجودگی میں لبلبہ (Pancreas) انسولین خارج کرنا کم کر دیتا ہے۔ اگر ہم اس وقت کھانا کھاتے ہیں تو خون میں موجود شوگر کو ٹھکانے لگانے کے لیے انسولین میسر نہیں ہوتی، جس سے Hyperglycemia (شوگر کا بڑھنا) اور طویل مدت میں Type 2 Diabetes پیدا ہوتی ہے۔

2۔ لیپٹین اور گھرلین کی بے ترتیبی (Leptin and Ghrelin Resistance):

رات کو دیر سے کھانا کھانے سے بھوک کنٹرول کرنے والے ہارمونز بگڑ جاتے ہیں۔ Leptin جو دماغ کو پیٹ بھرنے کا سگنل دیتا ہے، اس کی حساسیت ختم ہو جاتی ہے، جبکہ Ghrelin (بھوک کا ہارمون) بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے رات کو کھانے والے افراد کبھی خود کو سیر محسوس نہیں کرتے اور مسلسل موٹاپے کا شکار رہتے ہیں۔

3۔ لیپوجنیسس (Lipogenesis):

رات کے وقت جسم کی توانائی خرچ کرنے کی صلاحیت (Basal Metabolic Rate) کم ترین سطح پر ہوتی ہے۔ اس وقت کھائی گئی غذا گلوکوز میں تبدیل ہو کر توانائی دینے کے بجائے چربی کے خلیات (Adipose Tissues) میں ذخیرہ ہونے لگتی ہے۔ اس عمل کو طبی اصطلاح میں Lipogenesis کہا جاتا ہے۔

تقابلی طبی نظاموں کا تجزیہ (Comparative Medical Systems)

1۔ یونانی طب (Unani Medicine):

حکیم ابن سینا اور جالینوس کے مطابق، معدہ رات کے وقت "ہضمِ ثانی" اور "ہضمِ ثالث" یعنی جگر اور خلیات میں خوراک پہنچانے کے عمل میں مصروف ہوتا ہے۔ رات کو دوبارہ کھانا کھانے سے "تخمہ" (Indigestion) پیدا ہوتا ہے جو خون میں خلطِ غلیظ اور سدے پیدا کرتا ہے۔

2۔ آیوروید (Ayurveda):

آیوروید میں اسے "جٹھرا اگنی" (ہاضمے کی آگ) کا بجھنا کہا جاتا ہے۔ سورج کی روشنی ہاضمے کی قوت کی علامت ہے۔ سورج ڈھلتے ہی یہ آگ مدھم ہو جاتی ہے، اور اس وقت کھانا "آما" (Toxins) پیدا کرتا ہے جو جوڑوں کے درد اور سوجن کی اصل وجہ ہے۔

3۔ طبِ نبوی ﷺ (Prophetic Medicine):

اسلامی تعلیمات کے مطابق عشاء کے بعد گفتگو اور جاگنا ناپسندیدہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے پیٹ کے ایک تہائی حصے کو کھانے، ایک تہائی پانی اور ایک تہائی ہوا کے لیے چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ رات کا پیٹ خالی ہونا روح کی بیداری اور جسم کی شفایابی کا وقت ہے۔

4۔ روایتی چینی طب (TCM):

چینی طب کے مطابق شام 7 سے 9 بجے تک کا وقت معدے کی توانائی (Stomach Meridian) کے کمزور ہونے کا وقت ہے۔ اس وقت کھائی گئی غذا جسم میں "نمی" (Dampness) پیدا کرتی ہے جو پھیپھڑوں اور تلی (Spleen) کو متاثر کرتی ہے۔

5۔ ہومیو پیتھی (Homeopathy):

ہومیو پیتھک فلسفے میں رات کا کھانا "نائٹ ایٹنگ سنڈروم" پیدا کرتا ہے جو مریض کے میازم (Miasm) کو بیدار کر دیتا ہے، جس سے دائمی بیماریاں جیسے دمہ اور جلدی امراض شدت اختیار کر لیتے ہیں۔

6۔ نیچرو پیتھی (Naturopathy):

فطرت کا اصول ہے کہ روشنی میں کھانا اور اندھیرے میں آرام۔ نیچرو پیتھی کے مطابق سورج ڈھلنے کے بعد روزہ (Intermittent Fasting) شروع ہو جانا چاہیے تاکہ جسم خود اپنی مرمت (Autophagy) کر سکے۔

7۔ ایکوپنکچر (Acupuncture):

رات کے کھانے سے "Ren 12" اور "ST 36" جیسے اہم پوائنٹس پر توانائی کا دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے جسم کا الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ متاثر ہوتا ہے اور نیند میں خلل آتا ہے۔

8۔ کائرو پریکٹک (Chiropractic):

بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ سونا ریڑھ کی ہڈی کے اعصاب (Spinal Nerves) پر بوجھ ڈالتا ہے، کیونکہ معدے کا پھیلاؤ ڈایافرام پر دباؤ ڈالتا ہے جس سے مہروں کی ترتیب متاثر ہو سکتی ہے۔

9۔ روحانی و انرجی ہیلنگ (Spiritual Healing):

روحانی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھرا ہوا پیٹ انسان کے "چکروں" (Energy Centers) کو بلاک کر دیتا ہے، جس سے مراقبہ اور الہامی کیفیات میں رکاوٹ آتی ہے۔

قانونِ مفرد اعضا (QMA) اور حکیم صابر ملتانی

حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی صاحب کے مطابق، رات کا دیر سے کھانا جسم میں "اعصابی غدی" تحریک پیدا کرتا ہے، جس سے جسم میں رطوبات اور بلغم کی زیادتی ہو جاتی ہے۔ یہ تحریک جگر کو سست کر دیتی ہے اور غدد (Glands) میں تسکین پیدا کرتی ہے، جس کا نتیجہ موٹاپا، بلڈ پریشر اور گردوں کی کمزوری کی صورت میں نکلتا ہے۔ کلاسیکی اطبا جیسے علامہ قرشی نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ عضو کی مشقت اس کے آرام کے وقت میں اسے بیمار کر دیتی ہے۔

27 علاج بالتدبیر (Regimenal Therapies) کی تفصیل

اگر کوئی شخص رات دیر سے کھانے کا عادی ہو چکا ہے، تو قدیم اطبا ان 27 طریقوں سے اس کا علاج کرتے تھے:

 * حجامہ (Cupping): خون سے ان زہریلے مادوں کو نکالنا جو رات کے ناقص ہاضمے سے پیدا ہوئے۔

 * فصد (Venesection): خون کا دباؤ کم کرنے کے لیے رگ سے خون نکالنا۔

 * دلق (Massage): جسمانی حرارت بڑھانے کے لیے رگڑنا۔

 * حمام (Steam Bath): مسامات کے ذریعے فاسد رطوبات کا اخراج۔

 * ریاضت (Exercise): معدے کی قوتِ ہاضمہ کو تیز کرنا۔

 * دلق بالزیت (Oil Massage): اعصاب کو سکون دینا۔

 * تکمد (Fomentation): گرم ٹکور سے پیٹ کے سدے کھولنا۔

 * تعریق (Sweating): پسینہ لا کر زہر نکالنا۔

 * ادرار (Diuresis): گردوں کی صفائی۔

 * اسہال (Purgation): آنتوں سے پرانا گندہ مواد نکالنا۔

 * قے (Emesis): معدے کی فوری صفائی۔

 * حقنہ (Enema): قبض کا خاتمہ۔

 * نطول (Irrigation): دماغ کو ٹھنڈک پہنچانا۔

 * ضماد (Poultice): سوجن والے اعضا پر لیپ۔

 * طلا (Ointment): بیرونی مالش۔

 * کئی (Cauterization): فاسد مادے کو جلانا۔

 * امالہ (Diversion): مادے کا رخ بدلنا۔

 * ایامہ (Counter-irritation): درد کا رخ موڑنا۔

 * لینت (Laxation): پاخانہ نرم کرنا۔

 * علاج بالقی: بلغم کا اخراج۔

 * علاج بالبخار: جڑی بوٹیوں کی دھونی۔

 * علاج بالبارد: گرمی کا سرد علاج۔

 * علاج بالحار: سردی کا گرم علاج۔

 * علاج بالیابس: رطوبتوں کو خشک کرنا۔

 * علاج بالرطوبت: خشکی کا تر علاج۔

 * اسال: مادی صفائی۔

 * تفتيحِ اورام: اندرونی سوجن کا خاتمہ۔

تاریخی اطبا کے ارشادات اور نسخہ جات

 * ابن سینا: "القانون" میں فرماتے ہیں کہ رات کا کھانا ترک کرنا بڑھاپے کو جلدی بلاتا ہے، لیکن اسے مغرب کے وقت کھانا چاہیے تاکہ سونے تک ہضم ہو جائے۔

 * رازی: "الحاوی" میں لکھتے ہیں کہ نیند کی حالت میں ہاضمہ تو ہوتا ہے مگر وہ ادھورا رہ جاتا ہے۔

 * نسخہ نمبر 1 (سفوفِ ملوکی): اجمود، پودینہ، اناردانہ۔ (کتاب: بیاضِ ہاشمی)

 * نسخہ نمبر 2 (جوارش جالینوس): مستگی رومی، دانہ الائچی، ساذج ہندی۔ ہاضمے کے لیے اکسیر۔

جذباتی اختتام اور خراجِ تحسین

حکیم و ڈاکٹر ریضوان الحق سعید (مغل) منگول صاحب کا علم اور ان کی تحقیق اجنبی نہیں بلکہ ہمارے آباء کی وہ میراث ہے جسے ہم نے جدیدیت کی دھول میں چھپا دیا۔ ایک مریض کی کہانی یاد آتی ہے جس نے رات بھر جاگنے اور کھانے کی وجہ سے اپنی بینائی کھو دی تھی، لیکن ڈاکٹر صاحب کی رہنمائی اور فطری طرزِ زندگی نے اسے دوبارہ جینے کی امید دی۔ 

آج جب میں خالی ہسپتالوں کے بجائے بھرے ہوئے فوڈ کورٹس دیکھتا ہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنی قبریں کھود رہے ہیں۔

 

سوال و جواب:

کیا آپ بھی رات کو دیر سے کھا کر تیزابیت محسوس کرتے ہیں؟

Comments

Popular posts from this blog

page 12

پانی کے لیے جدوجہد اب بھی جاری ہے

Page 13