Posts

سیالکوٹ

 copied *سیالکوٹ ایک حقیقت ایک فسانہ* سن 1881  میں سیالکوٹ کے ریلوے اسٹیشن پہ اترنے والی ڈاکٹر ماریا،ہندوستان کو اپنا دیس بنانے آئی تھیں۔ شہر سے باہر ایک خاموش مقام پہ انہوںء نے اپنی ڈسپنسری بنائی اور خلق خدا کی خدمت شروع کر دی۔ ڈسپنسری نے سرجری کا روپ دھارا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک اسپتال بن گیا۔ ایوان صنعت و تجارت پہ اندر کی جانب واقع، مشن اسپتال داکٹر ماریا کا ہی خواب ہے۔ بٹلر کاؤنٹی کی قبر پہ کوئی پھول رکھے یا نا رکھے، مشن ہسپتال سے شفا پانے والے سینکڑوں مریض روزانہ اپنے اپنے خدا سے ماریا کی مغفرت مانگتے ہیں۔ گفتگو کے دوران ’’خ‘‘ کو ’’ح‘‘ بولنے والے سیالکوٹ کے لوگ پنجاب بھر میں اپنے منفرد مزاج کی بدولت مشہور ہیں۔ یہ ان جڑواں نہروں کا اثر ہے جو مرالہ سے نکلتی ہیں اور توام بچوں کی طرح دیر تک ایک دوسرے کے ساتھ چلتی ہیں یا ایک اور ڈیک نالہ کا اعجاز ہے، شہر کے مزاج میں بہر حال، دو پانی اکٹھے بہتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں آباد برصغیر کے باسیوں کی طرح یہ شہر بھی دوج کا شکار ہے۔ آگے بڑھنے کا خواہشمند اور پیچھے رہ جانے کا دلدادہ، ترقی کا معترف اور روائت پہ جان دینے والا۔ یہی وجہ ہ...

پاکستان کی پہلی ایف آئی آر

 پاکستان بننے کے بعد پہلی ایف آئی آر کب داخل ہوئی ۔ 18 اگست 1947 میں پاکستان کا پہلا بدترین اور نا انصافی پر مبنی سچا واقعہ تپیدار اور شاعر محمد خان ہمدم کا تعلق سندھ کے ایک ٹاؤن ماتلی ضلع بدین سے تھا وہ ایک نیک، سچا مذہبی پنج وقت نمازی اور تہجد گزار انسان بھی تھا ، محکمہ ریوینیو کراچی میں تپیدار کی حیثیت سے تعینات تھا۔ 17 اگست 1947 پاکستان آزاد ہو چکا تھا ، 18 اگست 1947 ، رمضان کے مہینے میں محمد علی جناح ، لیاقت علی خان اور ملک کی اعلیٰ قیادت کو کراچی میں نماز شکرانہ کی ادائیگی کرنی تھی ، سرکاری اعلیٰ افسران شاہی کی طرف سے ریوینیو والوں کو مرکزی عیدگاہ کی صاف صفائی کا حکم ملا تاکہ مناسب طریقے سے نماز شکرانہ کی انتظام کیا جا سکے ۔  محمد خان ہمدم کی سربراہی میں عیدگاہ کی صفائی کا کام کیا گیا ، اسی دوران محمد خان ہمدم کو یہ خیال آیا کہ وہ بھی پہلی صف میں محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے ساتھ نماز ادا کرے گا یہ اس کی دلی تمنا بن گئی ۔ جب نماز کا وقت قریب آیا تو ڈپٹی کمشنر اور مختار کار آخری جائزہ لینے کیلئے مرکزی عیدگاہ پہنچے سارے اسٹاف کو حکم ہوا کہ پہلی اور دوسری صفیں خالی ہو...

درآفت زندگی

لچکدار زندگی موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں لچکدار زندگی کے پانچ اجزاء 29 جنوری 2023 از ڈاکٹر عمر اقبال بھٹی موسمیاتی تبدیلی حقیقی ہے اور ہماری روزمرہ کی زندگی کو کسی بھی چیز کے طور پر متاثر کر رہی ہے۔ آفات ہر ملک میں نہیں تو ہر براعظم میں ہو رہی ہیں جیسے کہ سیلاب، گرمی کی لہریں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور سردیوں میں تیزی سے کمی۔ اس نے عام طرز زندگی اور بنی نوع انسان کی صحت کو متاثر کیا ہے۔ زندگی ہے خطرے سے دوچار اور قیمتی قدرتی وسائل جیسے جیسے پانی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں مسکن اور اپنے کردار کو کھو رہے ہیں اور زندگی کی بحالی بہت زیادہ بوجھ ہے. اس مضمون میں ہم اس رجحان سے نمٹنے کے لیے چار جہتی طریقہ کار تجویز کریں گے اثرات یہ اقدامات نہ صرف زندگی کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے بلکہ اس کے معیار کو بھی بہتر بنائیں گے۔ یہ اقدامات پانی، کھیتی باڑی اور جنگلات جیسے قیمتی قدرتی وسائل کی بھرپائی کو یقینی بنائیں گے۔   پودوں کی نشوونما کو بطور پیشہ اپنانا کسی کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ روز کی روٹی جیتنا زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ آپ جو پیشہ منتخب کرتے ہیں وہ اس دنیا کو بہتر یا بدتر...

پاکستان میں رہنا جاوید چوھدری

*کمال کر دیا جاوید چوہدری نے* اس کالم میں سب دوست ضرور پڑھیں ہر بات *سونے کے پانی* سے لکھنے کے قابل ہے   آپ اگر پاکستانی ہیں اور آپ اور آپ کا خاندان اگر اس ملک میں رہنا چاہتا ہے تو *آپ کو یہ چند سبق اپنے دماغ کی گرہ سے باندھ لینے چاہئیں۔* *پہلا سبق*   ہمارے ملک میں کسی بھی وقت کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو ذوالفقار علی بھٹو‘ جنرل ضیاء الحق‘ غلام اسحاق خان‘ فاروق احمد لغاری‘ بے نظیر بھٹو‘ جنرل پرویز مشرف اور شریف فیملی کا تجزیہ کر لیجئے‘ یہ لوگ ملک کے طاقتور ترین لوگ تھے لیکن ان کا کیا حشر ہوا‘ ان کا کیا حشر ہو رہا ہے؟ آپ ملک کے پانچ سابق آرمی چیفس کا پروفائل بھی نکال کر دیکھ لیجئے‘ آپ کو ان کی حالت پر بھی ترس آئے گا‘ آپ چیف جسٹس حضرات کے ساتھ ہونے والی ”ان ہونیوں“ کی فہرست بھی بنا لیں‘ آپ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو دیکھ لیجئے‘ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جس میں چیف جسٹس انصاف کیلئے عوام کا سہارا لینے پر مجبور ہوگیا تھا‘ میں نے اپنی آنکھوں سے پولیس کے طاقتور افسروں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھیں‘ ججوں کو اپنی فائلیں اٹھا کر مارے مارے پھرتے دیکھ...

سافٹ وئیر جاوید چوھدری

 " سافٹ ویئر " ایک موٹیویشنل تحریر  عبدالجبار اوکاڑہ سے تعلق رکھتے ہیں، سافٹ ویئر ڈویلپر ہیں، موٹر سائیکل پر سفر کا شوق ہے اور یہ اس کے ذریعے آدھا ملک گھوم چکے ہیں، مجھے دو سال قبل ان کے وائس میسجز آنا شروع ہوئے اور آہستہ آہستہ ہمارا رابطہ استوار ہوگیا، گرو زاہد عرفان سے میرا رابطہ بھی انھوں نے کرایا تھا، مجھے انھوں نے شوگر کے علاج سے متعلق ان کی ایک وڈیو بھجوائی۔ میں نے زاہد عرفان کا نمبر تلاش کیا اور اس کے بعد میرا ان سے تعلق استوار ہوگیا، میں نے زاہد عرفان کو گرو زاہد کا نام دیا اور ان کے ساتھ مل کر خوراک پر کام شروع کر دیا، ہم نے آرگینیکلز (Organicals) کے نام سے برینڈ بنایا اور ہم اب ایسے صدیوں پرانے نسخے تلاش کر رہے ہیں جو سادے ہوں، آرگینک ہوں اور جن کے ذریعے پاکستانیوں کو ڈاکٹرز اور فارما سوٹیکل کمپنیوں سے بچایا جا سکے۔ پوری دنیا کے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں ہماری 95 فیصد بیماریوں کی وجہ خوراک ہوتی ہے اگر ہماری خوراک ناخالص ہوگی اور ہم اگر اپنی ضرورت سے زیادہ کھائیں گے تو ہم ہر صورت بیمار ہوں گے چناں چہ ہم انسان اگر تین اصول اپنا لیں، کم کھائیں، خالص خوراک کھائیں اور...

فیض کی غزل

 ‏نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا  جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا  مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو  جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا  کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو  کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا  ادھر ایک حرف کہ کشتنی یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی  جو کہا تو سن کے اڑا دیا جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا  جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے  رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا   ― *فیض احمد فیض*

کامیاب شادی

 ایک عرب نوجوان کی شادی قریب تھی وہ خاندان کے ایک  ایسے بزرگ کے پاس گیے جن کی شادی کامیاب ترین سمجھی جاتی تھی کہ ان سے کامیاب شادی کا راز پالے- بزرگ نے نوجوان کو کامیاب شادی کا راز یہ بتایا کہ ہم نے شروع دن سے اختیارات تقسیم کر رکھے ہیں- چھوٹے معاملات میں بیگم کی چلتی ہے اوربڑے ایشوز پر میری رائے معتبر سمجھی جاتی ہے - انکل میں کچھ نہیں سمجھا؟ مطلب یہ کہ گھر کا سودا سلف، چیزوں کی ترتیب،گارڈن میں پھولوں کا رنگ،وہ کیا پہنے گی، میں کیا پہنوں گا،بچے کیا پہنیں گے،گھر سے باہر کب اور کہاں کھانا کھانا ہے، میری سیلری کہاں خرچ ہوگی، کس کے ساتھ نبھاہ کےرکھنا ہے کس پڑوسی کے ساتھ بگاڑ کر رکھنا ہے،گھومنے کب اور کس جگہ جانا ہے،یہاں تک کہ ٹیلیویژن پر کیا دیکھنا ہے یہ تمام فیصلے بیگم کرتی ہے، اسکی چلتی ہے - انکل پھر آپ کی رائے؟ بیٹا امریکہ اور چین کے تعلقات، آخری عالمی جنگ،پٹرول مہنگا ہونے کے دنیا پر اثرات، موسمیاتی تبدیلی، روسیوکرائن جنگ وغیرہ جیسے بڑے امور پر میری رائے معتبر سمجھی جاتی ہے - میں بس ایسے ایشوز پر ہی رائے دینے کا مجاز ہوں - 😊 یہی کامیاب شادی کا راز ہے - منقول