Posts

Showing posts from September, 2026

الحاد

 ﷽ الحاد،  اخلاق اور انکار! ( ڈاکٹر اظہر وحید )  گزشتہ ماہ قصور میں پنجاب کالج میں اساتذہ کرام  کے ساتھ گفتگو کی ایک نشست کا موقع ملا۔ اساتذہ سے گفتگو ہمیشہ دل کو بھاتی ہے۔ یہ غور وفکر کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔  نوجوان اساتذہ کی جانب سے بہت ہی عمدہ سوالات اٹھائے گئے۔ ایک نوجوان ٹیچر  کا سوال تھا:” آج کل  تعلیم یافتہ  طبقہ مائل بہ الحاد کیوں ہو رہا ہے؟ جسے دیکھو وہ  یہی کہتا ہے کہ میں ایک کریٹکل تھنکر ہوں، اس لیے کسی مذہب کو نہیں مانتا۔ کیا ہر سوچنے والا انسان  مذہب سے فرار ہو جاتا ہے؟ کیا  روایت پرست  طبقہ  ہی مذہب پرست ہوتا ہے؟   اساتذہ سے اس موضوع پر کافی سیر حاصل گفتگو رہی۔ اس گفتگو کے چنیدہ نکات ایک کالم کی صورت میں قارئین  کی ضیافتِ خیال کے لیے پیش کیے دیتے ہیں، تاکہ سندرہیں اور بوقتِ ضرورت کسی کے کام آئیں۔  دراصل اقرارِ وجودِ خدا انسان پر کچھ اخلاقی حدود و قیود  عائد کرتا ہے۔ دنیا کا کوئی مذہب بھی ہو، اس کی بنیاد میں کچھ اخلاقی اور روحانی قدریں  ضرور موجود ہوتی ہیں۔  وہ انسان جو کسی...

ذہانت

 اصل ذہانت کیا ہے؟ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ جو انسان بہت زیادہ کتابیں پڑھتا ہے، مشکل سوالوں کے جواب دیتا ہے، تیزی سے حساب کرتا ہے یا بڑی بڑی دلیلیں دیتا ہے، وہ بہت ذہین ہے۔ لیکن فلسفی جے کرشنا مورتی کہتے ہیں کہ علم اور ذہانت ایک چیز نہیں ہیں۔ انسان ہزاروں کتابیں پڑھ سکتا ہے، بڑی ڈگریاں حاصل کرسکتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی بنا سکتا ہے، لیکن پھر بھی وہ نفرت، خوف، حسد اور انا کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے پاس علم تو موجود ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کے پاس حقیقی ذہانت بھی ہو۔ عقل اور ذہانت میں فرق عقل ہمیں سوچنے، حساب لگانے اور منصوبہ بنانے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن ہماری سوچ زیادہ تر ماضی کے علم، یادوں اور تجربات سے بنتی ہے۔ اسی لیے ہماری سوچ ہمیشہ مکمل نہیں ہوتی۔ مثلاً ہم اپنے سامنے سانپ دیکھیں تو فوراً پیچھے ہٹ جاتے ہیں کیونکہ ہمیں خطرہ نظر آجاتا ہے۔ لیکن جب ہمارے اندر حسد، نفرت، خوف یا غصہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اسے خطرہ سمجھ کر فوراً نہیں روکتے۔ ہم بعض اوقات برسوں تک غصہ اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ قوم، زبان، مذہب یا دولت کی بنیاد پر دوسرے انسانوں کو خود سے الگ سمجھتے ہیں۔ پھر بھی خود کو ...