الحاد

 ﷽


الحاد،  اخلاق اور انکار!

( ڈاکٹر اظہر وحید )

 گزشتہ ماہ قصور میں پنجاب کالج میں اساتذہ کرام  کے ساتھ گفتگو کی ایک نشست کا موقع ملا۔ اساتذہ سے گفتگو ہمیشہ دل کو بھاتی ہے۔ یہ غور وفکر کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔  نوجوان اساتذہ کی جانب سے بہت ہی عمدہ سوالات اٹھائے گئے۔ ایک نوجوان ٹیچر  کا سوال تھا:” آج کل  تعلیم یافتہ  طبقہ مائل بہ الحاد کیوں ہو رہا ہے؟ جسے دیکھو وہ  یہی کہتا ہے کہ میں ایک کریٹکل تھنکر ہوں، اس لیے کسی مذہب کو نہیں مانتا۔ کیا ہر سوچنے والا انسان  مذہب سے فرار ہو جاتا ہے؟ کیا  روایت پرست  طبقہ  ہی مذہب پرست ہوتا ہے؟   اساتذہ سے اس موضوع پر کافی سیر حاصل گفتگو رہی۔ اس گفتگو کے چنیدہ نکات ایک کالم کی صورت میں قارئین  کی ضیافتِ خیال کے لیے پیش کیے دیتے ہیں، تاکہ سندرہیں اور بوقتِ ضرورت کسی کے کام آئیں۔ 


دراصل اقرارِ وجودِ خدا انسان پر کچھ اخلاقی حدود و قیود  عائد کرتا ہے۔ دنیا کا کوئی مذہب بھی ہو، اس کی بنیاد میں کچھ اخلاقی اور روحانی قدریں  ضرور موجود ہوتی ہیں۔  وہ انسان جو کسی اخلاقی ضابطے کو خاطر میں نہیں لانا چاہتا، مروجہ اِلحاد  اُس کے لیے  من مانی کا  ایک جواز فراہم کرتا ہے۔  دراصل   انکار کرنے والا  ایک ایسا دعویٰ کرتا ہے جسے وہ ثابت نہیں کر سکتا ۔ اقرار کرنے والا تو صرف تسلیم  کرتا ہے۔  ملحد دعویٰ کرتا ہے کہ اِس زندگی اور اِس  کائنات کا  کوئی خالق نہیں۔  جب وجودِ خدا ہی نہیں تو    پھر مذہب بھی نہیں، اگر مذہب  نہیں تو پھر مذہبی ضابطے اور اخلاقی  حدود و قیودچہ معنی دارد؟   معاشرتی ضابطے بھی صرف اس وقت تک   ہیں جب تک ک کیمرہ آن ہے، یا جب تک قانون کا ڈنڈا سر پر لہرا رہا ہے۔  وہ خوبی جس کی گواہ صرف تنہائی ہو، وہ ایک ملحد کے خانہِ شعور   میں نہیں سما سکتی ہے۔ دراصل تنہائی کو صرف ذاتِ خدا ہی  پُر کرتی ہے— اور ذاتِ خدا سے انکار ان کے مذہب کی پہلی شرط ہے۔ دراصل ملحد بھی ایک مذہب، یعنی راستے پر چل رہا ہے، یہ بھی اپنے مذہب کی اسی شد و مد سے تبلیغ کرتا ہے جس شدت سے کوئی ملّا    کرتا ہے۔ ملحدین اپنے مذہب میں زیادہ شدت پسند پائے گئے ہیں۔

 

   الحاد کا ملّاں زیادہ شدت پسند ہوتا ہے۔ اگر کسی مذہبی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں لامذہب ہے تو وہ اس قدر طیش میں نہیں  آتا،  لیکن اگر ایک لامذہب  کسی کو مذہب پر عمل پیرا دیکھتا ہے تو دفعتاً اس کا پارہ ہائی ہو جاتا ہے— اس کے ترکش سے طنز کے تیر نکل آتے ہیں،   ماتھے پر تیوری چڑھ جاتی ہے اور منہ  سے جھاگ نکلناشروع ہو جاتی ہے۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مغربی لباس میں ملبوس غیرمسلم خاتون کسی مسلم معاشرے میں گھوم پھر رہی تو  مذہبی لوگ اُس پر حملہ آور ہو جائیں ، لیکن  نام نہاد لبرل اور سیکولر معاشروں میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ  وہ    باحجاب مسلم خواتین پر دھاوا بول دیتے ہیں ، ان کا حجاب چھین لیتے ہیں —  یہاں  تک کہ جان ہی سے مار  ڈالتے ہیں— حجاب کی وجہ سے ایک مسلم خاتون کو مار ڈالنے کا واقعہ دن دہاڑے  فرانس میں   پیش آ  چکا ہے۔ فرانس لبرل لوگوں کی جنت ہے۔وہاں  کی پارلیمان میں ممبر پارلیمنٹ    کو  اکثر  حجاب لینے والی خواتین کا ٹھٹھہ  اڑاتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔   ملحدین    مسلم مردانہ لباسوں کے متعلق کافی متعصب پائے جاتے ہیں۔ وہ ڈھیلے ڈھالوں لباس پہننے  والوں کو خوب آڑے ہاتھوں لیتے ہیں، ان کا کارٹون بناتے ہیں اور خوب مضحکہ اڑاتے ہیں۔   دوسری طرف   دینی لوگوں   کو  مغربی لباس میں ملبوس  کسی لبرل کی  توہین کرتے ہوئے  نہیں دیکھا گیا۔ وہ لباس کے متعلق اتنے شدت پسند نہیں جتنے لبرل لوگ مشرقی لباس اور اقدار کے متعلق متشدد رویہ رکھتے ہیں۔ 

 

      خود کو سیکولر اور لبرل کہلوانے والوں نے دیکھتے ہی دیکھتے  جنگوں کو بھی عظیم سے عظیم تر بنا  ڈالا۔  جنگِ عظیم اَوّل اور دوم میں   جنگی سپاہی  ہی  نہیں،  عام شہریوں  کی چہل پہل سے  معمور  شہروں کے شہر زندہ جلا دیے گئے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی بھسم کر  ڈالے گئے۔  دینی لوگ کم از کم جنگوں میں بھی کوئی مہذب قانون اور کلیہ ملحوظ رکھتے ہیں—  اپنی کتابوں  میں یاد دہانی کے لیے ضرورمحفوظ  رکھتے ہیں۔ نصیحت پر عمل نہ بھی کر سکیں تو نصیحت کی ضرورت ضرور محسوس کرتے ہیں۔  دین میں جنگوں کے دوران    میں بھی کچھ اخلاقیات  برتنے  کی تعلیم پڑھائی جاتی  ہے— بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہیں کرنا، کھیتوں اور  کھلیانوں کو پامال  نہیں کرنا، کنووں میں  زہر نہیں ملانا، متحارب قوم کی عبادت گاہوں کو  مسمار نہیں کرنا، اُن کی  عبادت گاہوں اور صومعوں میں مقیم راہبوں سے کچھ تعرض نہیں کرنا ، دشمن  قوم کا  اگر کوئی فرد  اگر اپنی عبادت گاہ میں  پناہ لے لے، تو  اُسے  جان کی اَمان دینا،  کہ اُن کے نزدیک اُن کی  عبادت گاہ ایک جائے امان ہے — یعنی دوسروں کے عقیدے کا احترام   ایک سچا عقیدہ رکھنے والے پر واجب ہے۔  الغرض دین کو ماننے والے محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز نہیں سمجھتے۔ وہ جنگوں میں بھی بعض جگہ خدا خوفی دکھاتے ہیں۔ دراصل  خدا خوفی کے لیے بھی خدا کا ہونا ضروری ہے— اِن کے ہاں جب خدا ہی نہیں تو خدا خوفی  چہ معنی دارد؟  یہ لوگ اپنے  دشمن پر رحم کیوں کھائیں  گے ؟  اِن کی لغت میں طاقت ہی سب سے بڑا قانون ہے۔ جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہے، ان کے ہاں  ساری بھینسیں اُسی کی ہیں۔   خیر کسی بھینس کے آگے بین بجانے سےکچھ  حاصل  نہیں۔ یہ مضمون کسی ملحد کو  مسلم نہیں کرے گا— ہاں  ! جس کے  نہاں خانہِ قلب میں کلمے کا   خفیف نور موجود ہے، اور ملحدانہ افکار نے اسے  چھپا رکھا ہے ،  اسے  کسی دن خانہِ شعور  میں لا  ظاہر کرے  گا۔   

ملحد  بالعموم جمالیاتی حِس سے محروم ہوتا ہے۔ جمالیات کی حِس کسی ماورائی تصور سے بیدار ہوتی ہے۔ نظر نہ آنے والی حقیقت کی جستجو انسان کی خوابیدہ  حسِ لطیف کو  انگیخت  کرتی ہے۔ ظاہر اور صرف ظاہر ،  جسم اور صرف جسم  کی حد تک محدود  رہنے والی نظر  نادیدہ حقیقوں    تک رسائی  اور بینائی سے محروم رہتی ہے۔  ماورائے حوا س  حقیقتوں  کا اِنکار انسان کو دھیرے دھیرے بے حِس بنا  دیتا ہے۔  لبرل  افکار میں  اَفکار عالیہ     کی کوئی جگہ نہیں۔    اِن کے ہاں  فنونِ لطیفہ  ایک لطیفے سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔ سود و زیان کے باٹ لے کر زندگی بسر کرنے والا  شعر، اَدب اور  تصوف میں مشغولیت  کو  ایک  کارِ زیاں  ہے۔ کسی اَن دیکھے منظر کی یاد— روح  پر مضراب کا کام کرتی ہے۔ ملحدوں کے ہاں جب روح کا تصور ہی مفقود ہے تو  انہیں  کوئی وعدہِ اَلست  کیسے یاد  کروا سکتا  ہے۔  یاد روح کا سفر ہے — اور اِن کے ہاں یاد نہیں صرف یادداشت ہوتی ہے — اور یادداشت ظاہر ہے   دماغی صحت کے ساتھ مشروط ہے۔  وہاں  دماغ ختم ہو جائے تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے—یہاں  دماغ کے علاوہ بھی  بہت  مقامات موجود ہیں جہاں  گفتگو کی جا سکتی ہے، سنی جا سکتی ہے — سنوائی جا سکتی ہے!!   


ملحد سمجھتا ہے کہ  مذہب  انسانی معاشرے میں رائج    چند روایتوں اور کہاوتوں پر  مبنی  کوئی دیومالائی  داستان ہے—  اس  کے خیال میں  دنیا میں پھیلے ہوئے تمام   مذاہب    مولویوں ، پنڈتوں اور راہبوں کی  پھیلائی ہوئی  کہانیاں ہیں— اُس   کی عقل  اسے یہ باور کراتی ہے کہ صرف بیوقوف  اور ان پڑھ لوگ ہی مذہب پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور عقل مند اور زیرک لوگ  مذہب کا انکار کرنے والوں میں ہوتے ہیں۔  اس زعم  اور فہم  کو دور کرنا یقیناً ایک کارِ دشوار ہے۔ بے علمی تو دور ہوسکتی ہے ، بد علمی کون دُور کرے گا۔ بدعلم   کا ایک     عارفانہ ترجمہ جاہل ہے۔ جاہل کیا ہوتا ہے؟  اور اس کا حدود اربعہ کیا ہوتا ، اس کے متعلق  مرشدی واصف علی واصفؒ  کی  کتاب "دل ، دریا سمندر"  سے ایک  اقتباس  دیکھیں : 

"  کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عیسیٰ ؑ بھاگے جا رہے تھے —  ایک شخص نے دیکھا کہ یہ ہیں تو وہی،  مگر بھاگے کیوں جا رہے ہیں۔  اُس نے ڈرتے ہوئے کچھ پوچھنا چاہا — حضرت عیسیٰ ؑنے اِشارہ کیا کہ وہ بھی بھاگے۔  وہ دَوڑا —  اُس نے پھر پوچھا کہ آپ عیسیٰ ؑہی ہو—  اُنہوں نے کہا: ”ہاں “ — اُس آدمی نے کہا: ”آپ وہی ہو جو مُردے کو زِندہ کرتا ہے۔ “ اُنہوں نے کہا: ”ہاں!“اُس نے کہا: ”وہ جو بیماروں کو شفا دیتا ہے۔ “  — اُنہوں نے کہا: ”ہاں! “ —  ”توآپ بھاگ کیوں رہے ہیں؟“ — اُنہوں نے کہا: ”وہ دیکھ،  جو پیچھے آ رہا ہے،  وہ احمق ہے۔ “ — اُس نے کہا: ”اِس کا بھی علاج کرو۔ “ — عیسیٰؑ نے کہا: ”احمق کا علاج نہیں کیونکہ یہ بیماری نہیں — یہ عذاب ہے  —  یہ گرفت ہے  — اِس سے بچنا ہی بہتر ہے—    یہ آسمان سے نازل ہونے والی بَلا ہے۔  اِس سے پناہ مانگنے ہی میں عافیت ہے! “


ملحدانہ  افکار کے مطابق  یہ کائنات ایک حادثہ ہے—  مادے اور  توانائی کا ایک اتفاقیہ ربط کسی  ارتقائی عمل سے گزر کر     زندگی   اور شعور پیدا کر رہا ہے۔   اُس کی دانست میں  اِس زندگی میں  انسان   کے لیے کوئی مقصد دریافت کرنا ایک کارِ عبث ہے۔ جب کوئی مقصدِ حیات ہی نہیں  تو  مقصد نام کی کسی چیز کو حاصل کرنے کے لیے  خود کو کسی  اخلاقی یا روحانی ضابطے کے ماتحت کرنا  بھی ایک  لایعنی کام ہے۔    دراصل یہ ساری توجیہات قائم  کرنے میں تعلیم کا کچھ دوش نہیں۔   ہم دیکھتے ہیں کہ بے شمار تعلیم یافتہ  لوگ دین کو بہ جان ودل قبول کرتے ہیں، عمر بھر  دینی تعلیمات پر  عمل پیرا رہتےہیں— اور دینی افکار  کی نشر و اشاعت  میں صبح و شام کرتے  ہیں— اور ان میں سے کوئی  بھی  مولوی ، پنڈت   اور  راہب  نہیں ہوتا۔ ملحدین کی لغت میں  یہ قابلِ  دشنام  مولوی ، پنڈت اور  راہب قبیل کے  لوگ  ہی مذہب کے   خالق  ہیں۔ دراں حالے کہ ہر خاص و عام جانتا ہے کہ   یہ  سب  لوگ مذہب کے شارح ہوتے ہیں، شارع  نہیں ۔ یہ مذہب کے مفکر  اور مفسر ضرور  ہیں ، مذہب کے  مدبر اور خالق  نہیں۔   اگر کوئی حقیقت موجود ہوگی تو اس  کی تشریحات بھی ہوں گی۔  دھواں  آگ نہیں، آگ کے ہونے کا ثبوت ہے۔ ممکن ہے ، تشریحاتِ مذاہب  میں اِن لوگوں کا اپنا تخیل بھی کارفرما ہو، لیکن تخیل کے لیے  بھی ضروری ہے  کہ پہلے سے  کسی چیز کا وجود موجود  ہو۔    بادل  موجود ہوگا تو اس پر نظریں جمائے  قوتِ متخیلہ سے متصف کچھ لوگ اپنے تخیل کے زور  سے مختلف تصویریں بنا لیتے ہیں۔ اگر سرے سے  بادل ہی موجود  نہ  ہو تو بادل پر کوئی تصور آرائی  کیسے ممکن ہے۔  یہ تو ممکن ہے،کسی مذہب کی کوئی مسخ شدہ  شکل  کسی کو   مذہب سے متنفر کر رہی ہو، لیکن یہ بعید از  عقل ہے کہ مذہب نام کی کوئی حقیقت تاریخ میں موجود ہی نہ ہو۔


جن دنوں اشتراکی ممالک پر  الحاد کا بھوت سوار تھا، اور سرکاری طور پر ہر مذہب ممنوع قرار دیے دیا گیا تھا، وہاں حکومتی سطح پر    تصورِ خدا کو ایک نفسیاتی مرض قرار دے دیا گیا۔  اشتراکی روس کے ماہرین نفسیات اور سائیکائیٹری  کونسل  تصورِ خدا رکھنے والوں  کو ذہنی مریض سمجھ کر  ان کا علاج  کرتی ، اُن کے نزدیک مذہب اور خدا پر یقین  ایک delusion    ( فریبِ ذہن)  کا مرض  تھا۔ اِس  صورتِ حال میں انہیں یہ مشکل پیش آئی کہ دنیا بھر کے ماہرین نفسیات اور سائیکائیٹری اداروں  نے روسی  سائیکائیٹری  کونسل   کا بائیکاٹ کر دیا۔     نوعِ انسانی کے اجتماعی  ضمیر نے  اُن ملحدوں  کی یہ  بات ماننے سے صاف  انکار کر دیا  کہ خدا پر یقین کوئی ذہنی   مرض ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کے اہلِ علم و دانش   کا موقف یہ تھا کہ نسلِ انسانی  کی اکثریت جس فکر کو ایک  نارم  تصور کرتی ہے، اسے ابنارمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ  تصورِ خدا سے محروم  فہم ہر دور میں      ناقابلِ یقین اور ناقابلِ  اعتبار قرار پاتا ہے۔ 


مذہب سے انکار اور فرار کوئی نیا   ذہنی رجحان نہیں، یہ دماغی اختراع   perversion    بہت پرانی ہے۔ پہلے زمانوں میں بھی خدا اور رسولوں کا انکار کرنے والے لوگ  موجود تھے۔ پہلے پہل سائینس باضابطہ  علم کی شکل میں موجود نہ تھی، تب  یہ لوگ فلسفے کا سہارا لے کر مذہب  کو ردّ کیا کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ مادہ ہم پر  حاکم ہے اور مادے پر وقت حکمران ہے۔  بس یہ مادے اور وقت کا  اتار چڑھاؤ ہے جو زندگی اور موت  کی لہریں پیدا کرتا رہتا ہے۔ ملحد atheist   کہلوانے  کا فیشن نیا نہیں ، کافی پرانا ہے۔ آج  کل خود کو متشکک   Agnostic کہلوانے کا  فیشن بھی  خوب چل رہا ہے— یعنی  یہ بات کہ  ہمیں معلوم نہیں کہ خدا ہے ، یا نہیں — سو! ہم ماننے یا نہ ماننے والے کے معاملے میں  غیر جابندار رہیں گے۔ بندہ ِخدا ! اگر تمھیں  معلوم نہیں تو معلوم کرو، اگر معلوم نہیں کر سکتے تو جنہوں نے معلوم کر لیا ہے انہیں تسلیم کرو۔   یہ کیا عقل ہے کہ عقل کو ماؤف کر کے لاتعلق ہو کر بیٹھ رہے  اور  تلاش  کرنے والوں پر طعنہ زن  اور   خندہ زن ہوتے   رہے۔

 

 پہلے وقتوں میں ملحد  کو دہریہ کہتے تھے۔ دہریہ — دہر  سے  ہے— دہر یعنی وقت — پینارمک یا آفاقی  وقت—   وہ وقت کو خداکہتےتھے۔   خدا کو ایک ذات سمجھنے کی بجائے کوئی سائینسی کلیہ ، مادہ یا وقت تصور کرنا بھی اِلحاد ہی کہلاتا ہے۔ ذاتِ  خدا کا تصور رسول لے کر آتے ہیں۔     پہلے زمانے کے  دہریے آسمان کو  فاعل اولیٰ سمجھتے تھے، وہ فطرت ہی کو خالق جانتے تھے ، فاطر ذات  کا انکار کرتے تھے— آسمان کے خالق کے منکر تھے۔  آج کے دہریے  سبب اور نتیجے کو ایک اٹل حقیقت مانتے ہیں— وہ سمجھتے ہیں  کہ مادے اور توانائی کا تعامل  سبب اور نتیجہ پیدا کرتا ہے—ہر سبب کا ایک اٹل نتیجہ ہے ، اور ہر نتیجہ کسی سبب کا حاصل ہے— حالانکہ کوانٹم فزکس نے اُن کے اِس   عقیدے  کو بنیاد ہی سے اکھاڑ کر رکھ دیا ہے۔  بہرطور  آج کے ملحدین  مادّے کو    وقت ہی  کی طرح ایک اٹل حقیقت سمجھتے ہیں —  مادّہ پرستی اور دہریت یوں ہم آغوش ہو جاتے ہیں—  یہ لوگ بھی   دعا ، شفا اور شفاعت کے تصور سے محروم ہیں۔  قرآن میں  اِن کی نشان دہی موجود ہے—”یہ کہتے ہیں،ہمیں وقت کے سوا کوئی چیز ہلاک نہیں کرتی“۔  رسولوں کی تعلیمات کو  پرانے زمانے کی  کہانیاں کہنے والے  پرانے زمانے میں بھی موجود تھے— وہ رسولوں کی تعلیمات کو  ”اساطیر الاولین“ ( اگلے وقتوں کی کہانیاں)کہتے تھے۔ گویا  مذہب کو دیومالائی داستانوں  کی شکل میں دیکھنے والے لوگ پہلے بھی موجود تھے۔  اسی طرح  خود کو عقلمند اور ایمان لانے والوں کو بیوقوف سمجھنے والے لوگ پہلے بھی   ایک ٹکے  میں  دوبکتے تھے۔ ان کا ذکر بھی  ذکرِ عظیم میں موجود ہے: ”جب ان سے کہا جاتا ہے کہ   ایمان لاؤ جس طرح باقی لوگ ایمان لائے ہیں   تو یہ کہتے ہیں کیا ہم اُن کی طرح ایمان لے آئیں  جو  بیوقوف لوگ  ہیں“۔    اہلِ مذہب کو جہادی اور فسادی اور خود کو اَمنِ عالم کے ضامن سمجھنے والے لوگ پہلے بھی موجود  میں تھے۔ قرآن میں اِن کے بارے میں یہ خبر دی گئی: ”جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد برپا نہ کرو تو  یہ کہتے ہیں کہ ہم ہی تو  ہیں  اصلاح کرنے والے؛ آگاہ رہو یہی لوگ فسادی  ہیں لیکن انہیں اپنے فسادی ہونے کا شعور نہیں“۔ 

 

کریٹیکل تھنکنگ  کے زعم میں دین کا انکار کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں  کہ کریٹیکل تھنکر  سچ کو جھوٹ سے جدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ کوئی کریٹیکل تھنکر  وجودِ خدا پر توقف کیے بغیر نہیں گزر سکتا۔    اگر کوئی  تنقیدی سوچ کا حامل ہے تو  اسے چاہیے کہ وہ  نقل  کو اصل سے جدا کرے۔ اگر مارکیٹ میں نقلی دَوا  موجود ہے تو یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی  اصلی دَوا بھی اپنا وجود  رکھتی ہے ۔    نقل کسی اصل کے مقابلے  ہی میں بیچی جاتی ہے۔  فلسفے کے زعم میں مذہب کا انکار  کرنے والے  یہ بھول گئے کہ  مذہب کو فلسفے کی ماں  کہا جاتا ہے— Religion is the mother  of  philosophy—  سائنس کی آڑ میں دین کا انکار کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ ایک  اچھا سائنسدان مذہب اور خدا کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیتا۔ اگر کوئی اس سے  وجودِ خدا کے بارے میں دریافت کرے تو وہ صاف جواب دیتا ہے کہ ا س کا جواب  سائینس   کی بساط سے باہر ہے؛  بہتر ہے کہ اس کے بارے میں اہلِ مذہب سے رجوع کیا جائے۔  سائینس اور فلسفے  کو بنیاد بنا کر انکارِ خدا کرنے والے لوگ  نہ تو   اچھے فلسفی  ہوتے ہیں نہ اچھے سائنسدان۔بس نیم ملّا اور نیم حکیم بن کر اپنی اور دوسروں کی صحتِ فکر کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں۔     بنیادی اور منطقی   بات  یہ ہے کہ ہر شعبہ علم اپنے ہی  domain میں بات کرتا  ہے تو معتبر معلوم ہوتا ہے۔ خدا کے متعلق بات کرنا اہلِ مذہب کی ڈومین  میں آتا ہے۔   کیا  کسی میڈیسن  کے بارے میں  کوئی انجینئر فیصلہ دے سکتا ہے؟  کیا  سڑکوں اور پلوں  کے بارے میں  کسی  وکیل کی رائے  قابلِ توجہ ہو سکتی  ہے؟    سائنسدان مذہب پر  فتوے دے رہے ہیں، اہلِ مذہب آج کل سائینس کے دروازے پر سیس نوائی کر رہے ، اور سائینس کی مدد سے اپنے مذہب کو ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں— دونوں ہی  اپنی ڈومین سے باہر ہو گئے — اور یوں غیر معتبر ہو کر رہ گئے ! 


دراصل انکارِ خدا پر جمے ہوئے لوگ کوّے کی طرح سیانے ہوتے ہیں—   یہ  جانتے ہیں کہ  اقرارِ خدا اِن پر کیا  کیا پابندیاں لے کر آئے گا۔ اگر  وہ کسی خالق ذات کو مان لیں تو اس کائنات کی ترتیب  اور حسنِ ترتیب  دیکھ کر  اُس خالق کو  قادر اور علیم و خبیر   بھی ماننا پڑے گا— اور ایک علیم  و خبیر ذات   کے بارے میں یہ  بھی ماننا پڑے گا کہ  اس کی تخلیق بے مقصد نہیں ہوسکتی ہے۔اسے اپنی مخلوق سے لاتعلق اور بے خبر نہیں ہو سکتا ہے—  ذاتِ خدا کو اس کی تمام صفات کے ساتھ ، وہ تمام صفات جو اس کے رسولوں نے بتائی ہیں،   ماننے کے بعد انہیں کائنات کے ساتھ ساتھ   مقصدِ تخلیقِ انسان  بھی تلاش کرنا پڑے گا— پھر اس کے ساتھ ہی  خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی ربط اور رابطہ بھی ماننا پڑے گا— اور یوں  اُس کے فرستادہ پیغمبروں کو بھی ماننا پڑے گا، اور پیغمبروں کو ماننے کے ساتھ ہی اُن پیغمبروں کی لائی ہوئی شریعت یعنی قانونِ خدا کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا—  بس پھر کچھ نہ پوچھٰں — اس کے بعد  اپنی   زندگی اپنی مرضی کی بجائے  خالق کی مرضی کے مطابق بسر کرنے کا ایک طویل  مرحلہ درپیش ہوگا—  سو! اس ساری مشکل سےبچنے  کے لیے اِن شتر بے مہار لوگوں  کے لیے  آسان ترین  راستہ یہی  ہے کہ وہ  فی الفور    وجودِ خدا کا انکار کر دیں۔ خدا کا ثبوت مانگنے والے خدا کے نہ ہونے کا کوئی ثبوت نہ دے سکے۔ بارِ ثبوت انکار کرنے والوں پر ہوتا ہے۔  اقرار کرنے والوں سے ثبوت طلب کرنا  کسی قانون  اور منطق  کی کتاب میں  نہیں ملتا ۔ 

 

    بہرحال ہمارا دین تو یہی کہتا ہے:" دین میں کوئی جبر نہیں“— ہمیں تو انہیں  کہنے کے لیے یہی بتایا گیا ہے"" تمہارے لیے تمہارا دین اور ہمارے لیے ہمارا دین !"۔ ہم ٹھہرے رحمٰن کے بندے — جب یہ ہم سے مخاطب ہوں گے تو ہم انہیں شائستگی  کے ساتھ یہی کہہ دیا کریں   گے: "بھئی!  آپ  کو  سلام " ۔ مرشدی واصف علی واصفؒ  نے ایک جگہ ایک عجب مکالمہ لکھا ہے— کیا غضب مکالمہ لکھاہے۔ لکھتے ہیں" ایک دوست دُوسرے سے بولا:تم نے وہ کہانی سُنی ہوئی ہے؟دوست نے جواب دیا: نہیں!میں نے دُوسری کہانی سُنی ہوئی ہے“—اور اس کے ساتھ ہی  بحث ختم ہو گئی۔  


کہتے ہیں : ایک ٹرین میں تین مسافر محوِ سفر تھے۔ رات  گھپ اندھیری تھی، اس ڈبے ان تینوں کے سوا کوئی اور  موجود نہ تھا۔ مختلف موضوعات پر  گفتگو و شنید ہو رہی تھی کہ اچانک بھوتوں کے وجود پر بحث چل نکلی۔ ایک مسافر شد و مد سے انکار کر رہا تھا، دوسرا  اُن  کے ہونے کے  حق میں  زور و شور  سے دلائل دے رہا تھا۔  تیسرا شخص خاموش بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا۔ کافی دیر کے بعد ان دونوں نے اس سے پوچھا : "کیوں بھائی!  آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ بھوتوں پر یقین رکھتے ہیں؟ اُس نے کہا: "ہاں!— میں تو یقین رکھتا ہوں"—  اور یہ کہہ کر وہ غائب ہو گیا۔ 

اب ہم انہیں اپنے ہونے کا کیا ثبوت فراہم کریں؟  "من عرف نفہ فقد عرف ربہ" کا راز  اتنا بھی   کم قیمت نہیں کہ  راہ چلتے  کسی کو یوںہی  تھما دیا  جائے۔   


( روزنامہ "نئی بات" میں  ہفتہ وار کالم "عکسِ خیال"  کچھ اضافی متن کے ساتھ—   اشاعت بروز بدھ 23 ستمبر 2026ء)

wasifcentre@gmail.com

Comments

Popular posts from this blog

معاشروں کی اقسام

page 12

مومن از عشق است