Posts

شادی کیوں

 copied حلال رشتے کے انتظار میں بیٹھی بوڑھی ہوتی عورت کی فریاد: میری عمر اس وقت 35 سال ہے میری ابھی تک شادی نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے خاندان کی رسم ہے کہ خاندان سے باہر رشتہ کرنا نیچ حرکت ہے ۔خاندان کے بڑے بوڑھے جب آپس میں بیٹھتے ہیں تو بڑے فخریہ انداز سے کہتے ہیں کہ سات پشتوں سے اب تک ہم نے کبھی خاندان سے باہر رشتہ نہیں کیا ۔ عمر کے 35ویں سال میں پہنچی ہوں اب تک میرے لئے خاندان سے کوئی رشتہ نہیں آیا جب کہ غیر خاندانوں سے کئ ایک رشتے آئے  لیکن مجال ہے کہ میرے والدین یا بھائیوں نے کسی سے ہاں بھی کیا ہو۔ میرے دلی جذبات کبھی اس حدتک چلے جاتے ہیں کہ میں راتوں میں چیخ چیخ کر آسمانوں سر پر اٹھاؤں اور دھاڑیں مار مار کر والدین سے کہوں کہ میرا گزارہ نہیں ہورہا خدارا میری شادی کرادیں اگرچہ کسی کالے کلوٹے چور سے ہی صحیح ۔لیکن حیاء اور شرم کی وجہ چپ ہوجاتی ہیں۔  میں اندر سے گھٹ گھٹ کر زندہ نعش (لاش) بن گئی ہوں ۔ شادی بیاہ وتقریبات میں جب اپنی ہمچولیوں کو اُن کے شوہروں کے ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھتی ہوں تو دل سے دردوں کی ٹیسیں اٹھتی ہیں۔۔۔۔۔۔ یا خدا ایسے پڑھے لکھے جاہل ماں باپ کسی کو نہ دی...

آمنہ

 copied میں جب بھی سعودی مغرب کی جانب گیا، ہے وہاں کے سیاہ پہاڑ دیکھ کر میں سحر زدہ ہو جاتا ہوں، خوفزدہ ہو جاتا ہوں، میں حیران رہتا ہوں کہ یہاں انسانی زندگی کیسے سروائیو کرتی تھی، وہ بھی ان زمانوں میں جب یہاں میل و میل دور کہیں کہیں کوئی کنواں ہوتا تھا، ان پہاڑوں میں کہیں کوئی سایہ دار درخت نہیں، آج کی طرح بجلی اور دوسری اشیاء کی طرف وسائل نہیں، ان پہاڑوں میں انسانی زندگی کیسے گزرتی ہوگی، پھر میں آمنہ کو سوچتا ہوں، کتنے دکھ میں اپنی بیوگی میں اپنے کمسن بیٹے کو لے کر کتنے ہی میل دور اس کے باپ کی قبر پر لے گئی تھی، وہ بیماری سے ٹوٹ چکی تھی، اس نے تو اپنے بیٹے کے ساتھ اس کا بچپن بھی بھرپور نہیں جیا تھا، بس اس کے پاس آیا تھا تو وہ اسے اس کے باپ سے ملوانے کے لیے لے گئی، اسے معلوم ہو رہا تھا کہ شاید اس کے پاس وقت کم ہے اسے اس بیٹے کو اس کے باپ کے پاس لے کر جانا چاہیے، حالانکہ آمنہ شادی سے پہلے اپنے خاندانی نام، وجاہت، خوبصورتی اور آداب میں اتنی معروف تھیں، کہ وہاں کے بیسیوں معتبر لوگ اور جوانوں کی توجہ کا مرکز تھی، بہترین اور خوبصورت نوجوانوں نے اسے شادی کی پیشکش کی تھی، لیکن اس کے والد ...

اکائی

  copied کافی کا کپ  (میرے والدین اور شریک حیات کے نام)  وہ کوئٹہ کی کڑاکے دار سردیوں کا ایک روز تھا۔ گھر کے صحن میں شام کے اندھیرے اتر چکے تھے۔ اتفاق سے ابو کی گھر جلدی واپسی ہو گئی تھی اور ہم چھ نفوس گھر کی واحد انگیٹھی کے گرد دائرہ بناۓ بیٹھے تھے ۔ ایسے میں بڑی بہن نے امی سے کافی کی فرمائش کر ڈالی۔  مخاطب امی یوں تھیں کہ ابو کو گھر آے کچھ ہی دیر ہوئی تھی اور انکو تنگ کرنا مقصود نہ تھا ورنہ ہمارے گھر کے کافی اسپیشلسٹ وہی تھے۔  مگر پھر ہم نے دیکھا کہ امی ابو کے درمیان آنکھوں میں خفیف اشاروں اور زیر لب مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا اور امی نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔ "مجھے کافی بنانی نہیں آتی" ۔ اور چند ہی لمحوں میں ابو کچن میں تھے جہاں سے کپ اور چمچ کی جلترنگ بلند ہو رہی تھی۔   ہمارے ہاں کافی کو مشروب نہیں بلکہ ایک فریضے کا درجہ حاصل تھا،  ایک ایسا فریضہ جو صرف سردیوں میں بصد اہتمام سرانجام دیا جاتا تھا۔  ایک کپ میں کافی چینی اور تھوڑا سا گرم پانی ڈال کر اتنا پھینٹا جاتا کہ اسکا رنگ بدل جاتا۔  اس دوران ایک پتیلی میں دودھ گرم ہوتا رہتا۔ آخر میں ک...

good urdu books

 . Urdu literature has a history that is inextricably tied to the development of the Urdu language.Its Based on literary, cultural, and historical importance, this list tries to present some of the most remarkable works in Urdu. It is not limited to literature and includes books on history, culture, philosophy and religion. Readers may, of course, disagree and make their own lists. The list is not in order of preference. 1. *Kulliyat-i-Sauda* : collected works of Mirza Rafi Sauda, one of the classical Urdu poets. 2. *Kulliyat-i-Meer* : collected works of Mir Taqi Mir, one of the greatest of Urdu poets. 3. *Bagh-o-bahar* : a dastan, written by Mir Amman, is an example of simple yet idiomatic classical prose. 4. *Fasana-i-ajaib* : a dastan, penned by Rajab Ali Baig Suroor, is among the samples of the most ornate classical Urdu prose. 5. *Gulzar-i-Naseem* : one of the best Urdu masnavis, composed by Daya Shankar Naseem. 6. *Kulliyat-i-Insha Allah Khan Insha* : collected poetical works...

pqnk agriculture

Image
 pqnk

بیگم کی سوچ

 بیگم کے ساتھ فلم یا سیریز دیکھنا ایک الگ نوعیت کا سیاپا ہوتا ہے۔ ‏یوں لگتا ہے جیسے وہ فلم یا سیریز آپ پر ہی بنی ہوئی ہے۔ کچھ دن پہلے ایسی ہی ایک فلم ہم دونوں دیکھ رہے تھے۔ اس کا مرکزی کردار اپنی بیوی کو بھی تحائف دے کر خوش رکھتا ہے اور باہر بھی اس کے کافی چکر چل رہے ہوتے ہیں۔ یکدم بیگم کی آواز آئی”بغیرت انسان، بیوی کو بھی خوش رکھا ہوا اور باہر بھی چکر چلانے سے باز نہیں آیا"۔ ‏ میں نے اس کی جانب دیکھا تو وہ میری جانب ہی دیکھ رہی تھی۔ میں نے اگنور کر دیا کہ شاید ہیرو پر اپنی رائے دے رہی ہے۔ ‏کچھ دیر گزری تو پھر ایسے ہی کسی سین پر بولی”چیپسٹر، بیویوں کے ساتھ بھی لولو پوپو کرتے ہیں اور موبائل پر گرل فرینڈ کے ساتھ بھی لگے رہتے ہیں"۔ ‏میں نے پھر گردن گھما کے اُسے دیکھا۔ وہ اب کے ٹی وی سکرین کی جانب دیکھ رہی تھی۔ ‏پھر کچھ دن بعد ایسے ہی ایک بھارتی ٹی وی سیریز دیکھی۔ جس کی مرکزی کردار ایک عورت تھی جو شوہر کی ڈانٹ ڈپٹ کا شکار رہ کر ذہنی مریضہ بن چکی تھی۔ اچانک بیگم کی آواز آئی "خدمتیں جتنی مرضی کر لو ان کی، یہ مینٹل ٹارچر کرنے سے باز نہیں آتے، سستے انسان"۔ ‏ میں نے اسے دیکھ...

سولہ سنگھار

 *سولہ سنگھار* *سولہ سنگھار (ہندی:सोलह सिंगार)* برصغیر پاک و ہند میں خواتین کے بناؤ اور زیب و زینت کے لئے استعمال ہونے والے سولہ کلاسیکی طریقے ہیں جو جدید کاسمیٹکس صنعت کے آنے سے پہلے کم و بیش ہر طبقے کی خواتین اپنی آئندہ نسلوں کی لڑکیوں کو تعلیم دیتی تھیں۔ سولہ سنگھار کے طریقوں کے آغاز اور ترویج کے زمانے کا درست اندازہ نہیں ہے تاہم اس میں بتائی گئی مختلف تکنیکیں مختلف ادوار مثلا آریائی دور اور اس سے قبل گندھارا عہد حتیٰ کہ قدیم دراوڑی دور کے مجسموں، تصاویر، ادب اور داستانوں اور آثار میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا آغاز برصغیر میں تہذیب کے باقاعدہ آغاز کے ساتھ ہی ہوا اور رفتہ رفتہ یہ ایک منظم نصابی شکل اختیار کر گیا۔ برصغیر میں عام طور پر ہندو خواتین، مختلف تہواروں میں یہ سنگھار اپناتی ہیں، لیکن سماجی اختلاط کی وجہ سے برصغیر کی دوسری اقوام یعنی مسلمان اور سکھ گھرانوں کی خواتین بھی یہ طریقے اپناتی رہی ہیں۔ تخت دہلی کے علاوہ ریاست اودھ کے مسلم نوابوں کی حویلیوں میں مسلمان بیگمات خاص طور پر اس کا اہتمام کرتی تھیں اور آج بھی روایت پسند گھرانوں میں اس کا اہتمام کی...