بدنظری اور معاشرہ

 


بدنظری اور معاشرہ

اسلام کے احکامات اور معاشرے کی ترقی کا آپس میں کیا تعلق ہے ایک ایسا موضوع ہے جو کہ اکثر زیر بحث دیکھا جاتا ہے۔ بدنظری اور مرد و عورت کی اجتماعی محفلوں کو ہی دیکھ لیں لوگ پوچھتے ہیں کہ ان سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اسلام میں غیر عورت کو گھورنا ایک برا عمل سمجھا جاتا ہے جسے اسلام میں نگاہوں کی خیانت قرار دیا گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مصر سے ہجرت کر گئے تو ان کی ملاقات حضرت شعیب کی جوان بیٹیوں سے ہوئی جن کی انھوں نے مدد کی۔ بعد میں جب حضرت شعیب سے ان کی بیٹیوں کی بات ہوئی تو انھوں نے حضرت موسیٰ کی حیا اور بلند کرداری کی تعریف کی۔ ان خواتین نے اپنے باپ سے کہا کہ ملازمت کے دو بنیادی اصول ایمانداری اور کام میں مہارت ہیں۔ ایمانداری حضرت موسیٰ کی حیا سے اور کام کی مہارت ان کے اس طریقہ کار سے پتہ لگی جو انھوں نے جانوروں کے ریوڑ کو پانی پلانے کے لئے اختیار کیا۔ نظر کی حفاظت ایک کامیاب معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے جو ایمانداری کی صورت میں ہر لین دین کا حصہ بن جاتی ہے۔ 

  چونکہ ہمارے معاشرے میں بدنظری عام ہے اس لئے  فلمیں  اور ڈرامے عام دیکھے جاتے ہے جن میں عورتوں اور مردوں کے حسن کو اولیت دی جاتی ہے۔ حسن ہی معیار ٹھہرتا ہے اور کیریکٹر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس رویے کی وجہ سے معاشرتی خوبیاں اور ایمانداری پس پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ میک اپ زدہ چہروں کو دیکھنے کے عادی ہو جانے کی وجہ سے لوگ شادی کے لئے بھی صرف خوبصورتی ہی ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ دلھن کے بارے میں ٰپیاری ہے پیاری ہے ٰ اور دولہا خوبصورت ہے کی گردان کی جاتی ہے۔ ایسی نظر ان اخلاق کو نہیں دیکھ پاتی جن پر ایک اچھے خاندان کو تعمیر ہونا ہوتا ہے ۔ اور معاشرے کی ترقی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

page 12

پانی کے لیے جدوجہد اب بھی جاری ہے

Page 13